ذرا سا غم نہیں چہرے پہ ان کے
میاں سر پر کوئی رومال ہی رکھ لو
انہیں تو موت آنا ہی نہیں ہے
وہی طعنے
وہی فقرے
ابھی تک میرا پیچھا کر رہے ہیں ہر جنازے میں
میں اپنی چال کی رفتار تھوڑی اور کم کر کے
نکل آتا ہوں باہر بھیڑ سے
اور رک کے اک دکان پر سگریٹ جلاتا ہوں
جنازہ دور ہوتا جا رہا ہے
یہ سب کیا ہے؟
اداکاری نہیں آتی مجھے تو کیا کروں میں
اور سچی بات کہہ دوں تو مجھے پاگل سمجھ لے گی یہ دنیا
ہاں یہ سچ ہے
مجھے رتی برابر غم نہیں ہوتا کسی کی موت کا
اور یہ بھی سن لو
مری جس مسکراہٹ پر یہاں ناراض ہیں سب
سبب اس کا جلن ہے
جو میں محسوس کرتا ہوں کسی بھی مرنے والے سے
کڑھن ہوتی ہے مجھ کو سوچ کر
کہ میں جس امتحاں کے خوف سے بے حال اور بے چپن پھرتا ہوں
وہ یہ صاحب
جو کاندھوں پر ہیں
ان کا ہو چکا
اور میرا باقی ہے
- کتاب : کھڑکی تو میں نے کھول ہی لی (Pg. 149)
- Author : شارق کیفی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2018)
- اشاعت : 2nd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.