تو وہ سب مشق تھی
بے پردگی کی
جو مجھے پچھلے کئی ایک سال سے ان اسپتالوں میں کرائی جا رہی تھی
جہاں پر قید تھا میں
کبھی مجھ کو مرے ہی پھیپھڑوں کی ایکس رے میں قید تصویریں دکھا کر
کبھی پیشاب کی تھیلی لگا کر
کہ میں پوری طرح بے شرم ہو جاؤں
اس اک لمحے کے آنے تک
جب اک انجان ہاتھ
غسل کے تختے پہ بالکل بے جھجک
عضو تناسل میں مرے
پیشاب کی بوندیں ٹٹولے
اور مجھے جیسے جہاں جی چاہے چھو لے
- کتاب : دکھ نئے کپڑے بدل کر (Pg. 132)
- Author : شارق کیفی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2019)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.