محور
قدم مٹی پہ رکھتی ہو
کہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیں
کہ جب تم پاؤں دھرتی ہو
تو دھرتی کے جگر کی دھڑکنیں بھی آزماتی ہو
بہاروں میں بکھرتیں تو تمہیں بس ڈھونڈتے پھرتے
مگر تم رنگ و بو کو اپنا پس منظر بناتی ہو
خوش دلی کے قہقہے کی نقرئی گھنٹی کے نغموں کی کھنک کے ساتھ
سارے منظروں پر پھیل جاتی ہو
وہ ساعت جس میں تم دم لو
زمانے کی ہر اک تقدیم سے باہر
کوئی پھیلا ہوا لمحہ ٹھہرتی ہے
وہ سب گوشے جہاں تنہائی تم کو کھینچ لے جائے
وہیں تو ریشمی نکہت کی تنویریں بکھرتی ہیں
یہ تصویریں
کہ جن میں تم نے دیکھا
لوگ دن کے ہفت خواں کو کاٹتے گزرے
یہ سب خوں تھوکتے
زخم اپنے اپنے چاٹتے انساں
فقط اس شام کی آہٹ پہ جاتے ہیں
جہاں تم ہو
- کتاب : siip (Magzin) (Pg. 175)
- Author : Nasiim Durraani
- مطبع : Fikr-e-Nau ( 39 (Quarterly) )
- اشاعت : 39 (Quarterly)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.