Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

محور

MORE BYاحسان اکبر

    قدم مٹی پہ رکھتی ہو

    کہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیں

    کہ جب تم پاؤں دھرتی ہو

    تو دھرتی کے جگر کی دھڑکنیں بھی آزماتی ہو

    بہاروں میں بکھرتیں تو تمہیں بس ڈھونڈتے پھرتے

    مگر تم رنگ و بو کو اپنا پس منظر بناتی ہو

    خوش دلی کے قہقہے کی نقرئی گھنٹی کے نغموں کی کھنک کے ساتھ

    سارے منظروں پر پھیل جاتی ہو

    وہ ساعت جس میں تم دم لو

    زمانے کی ہر اک تقدیم سے باہر

    کوئی پھیلا ہوا لمحہ ٹھہرتی ہے

    وہ سب گوشے جہاں تنہائی تم کو کھینچ لے جائے

    وہیں تو ریشمی نکہت کی تنویریں بکھرتی ہیں

    یہ تصویریں

    کہ جن میں تم نے دیکھا

    لوگ دن کے ہفت خواں کو کاٹتے گزرے

    یہ سب خوں تھوکتے

    زخم اپنے اپنے چاٹتے انساں

    فقط اس شام کی آہٹ پہ جاتے ہیں

    جہاں تم ہو

    مأخذ :
    • کتاب : siip (Magzin) (Pg. 175)
    • Author : Nasiim Durraani
    • مطبع : Fikr-e-Nau ( 39 (Quarterly) )
    • اشاعت :  39 (Quarterly)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے