Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میرا کوئی دوست نہیں

زاہد امروز

میرا کوئی دوست نہیں

زاہد امروز

چیخیں مجھے کبھی رہا نہیں کرتیں

مجھے معلوم ہے

ہر منظر میں ایک چیخ چھپی ہے

میں جہاں بھی جاتا ہوں

کوئی نہ کوئی چیخ مجھے پہچان لیتی ہے

میں اپنی خاموشی کی مخالف سمت

خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگتا ہوں

اسی بوکھلاہٹ میں چیخوں کے کئی جھنڈ

مجھے بھڑوں کی طرح گھیر لیتے ہیں

بھاگتے ہوئے میں قبرستان میں پہنچ جاتا ہوں

جہاں ہر قبر میں ایک چیخ دفن ہے

مجھے دیکھ کر

چیخیں میرے گرد ہوا میں تیرنے لگی ہیں

اور مجھ سے چیخ بن جانے کا مطالبہ کرتی ہیں

بقا کی جنگ لڑتے ہوئے

اب میرے ہاتھ بازوؤں سے گرنے والے ہیں

اور ہارنے کے لیے میرا کوئی دوست نہیں

میں محسوس کر رہا ہوں

میرا چیخوں سے بندھا ہوا جسم

جب گونجنے کے قریب ہوگا

میں کسی خشک دریا کے کنارے

سرخ رنگ میں لتھڑی چیخ بنا لوں گا

اور مٹی میری قبر بنانے میں مصروف ہوگی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے