Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پتھر

غضنفر

پتھر

غضنفر

MORE BYغضنفر

    میں اک معصوم شہری تھا

    شرافت سے سبھی کے ساتھ رہتا تھا

    مہذب طور سے جیتا تھا

    سب کے کام آتا تھا

    کبھی میں نے کسی کا دل نہیں توڑا

    کسی کا سر نہیں پھوڑا

    کسی ترکش سے کوئی تیر کیا تنکا نہیں چھوڑا

    کسی کی پیٹھ میں خنجر نہیں بھونکا

    کسی کے جسم پر بارود کا گولا نہیں پھینکا

    کسی کو آگ میں میں نے نہیں جھونکا

    کسی کا حق نہیں مارا

    کسی کا زر نہیں لوٹا

    کوئی خرمن نہیں پھونکا

    کسی بلڈنگ کسی گاڑی کسی محفل میں کوئی بم نہیں رکھا

    مرے ہاتھوں کسی کا گھر نہیں اجڑا

    کسی کا در نہیں اکھڑا

    کوئی کنبہ نہیں بکھرا

    کوئی ماتھا نہیں سکڑا

    کسی کی راہ میں روڑا نہیں اٹکا

    کسی کے کام میں میں نے کبھی رخنہ نہیں ڈالا

    کسی کے واسطے دل میں کبھی کینہ نہیں پالا

    کوئی فرمان حاکم کا کبھی میں نے نہیں ٹالا

    کوئی گھیرا نہیں لانگھا

    کوئی آنگن نہیں پھاندا

    مگر پھر بھی قیامت مجھ پہ ٹوٹی ہے

    عجب غارتگری کا قہر برسا ہے

    عجب سفاک خنجر دل میں اترا ہے

    کہ میری روح اب تک تلملاتی ہے

    کہ میرا ذہن اب بھی جھنجھناتا ہے

    کہ میری سانس اب بھی لڑکھڑاتی ہے

    سمجھ میں کچھ نہیں آتا

    کہ میں نے کیا بگاڑا ہے

    مرے کس جرم کی مجھ کو ملی ہے

    یہ سزا آخر

    یہ گتھی کس طرح کھولوں

    سبب کس سے یہاں پوچھوں

    کدھر جاؤں

    کسے روکوں

    سبھی چہرے یہاں پتھر

    سبھی آنکھیں یہاں پتھر

    بصارت میں بھرا پتھر

    سماعت میں بسا پتھر

    زبانوں میں گڑا پتھر

    عدالت میں کھڑا پتھر

    ہر اک قانون میں پتھر

    ہر اک آئین میں پتھر

    ہر اک انصاف میں پتھر

    ہر اک آواز میں پتھر

    ہر اک احساس میں پتھر

    یہ پتھر یگ کے پتھر سے بھی بھاری ہے

    نگینے کی طرح ترشا ہوا ہے

    اور ہیرے کی انی کی طرح اس کی تیز نوکیں ہیں

    بہت شفاف ہے یہ اور اس میں اک تمدن ہے

    میں اس پتھر سے سر پھوڑوں

    کہ اپنی زندگی چھوڑوں

    کہ اپنا راستہ موڑوں

    کہ بن جاؤں میں خود پتھر

    سمجھ میں کچھ نہیں آتا

    مأخذ :
    • کتاب : Aank Mein Luknat (Pg. 130)
    • Author : Ghazanfar
    • مطبع : Maktaba Jamia Ltd. (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے