Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سفر ہی آدرش کا سفر ہے

سرور کامران

سفر ہی آدرش کا سفر ہے

سرور کامران

MORE BYسرور کامران

    آج بھی رات سونے سے پہلے

    میرے بیٹے نے مجھ سے کہا میں اسے کوئی اچھی کہانی سناؤں

    تو میں نے اسے ایک دل کش جزیرے میں اچھے گزرتے دنوں کی کہانی سنائی

    جو مجھ سے مرے باپ نے یہ کہی اور اس نے وراثت میں اس داستان کو سنا

    ہم نے بچپن میں سر سبز و شاداب نیلے جزیرے میں پریوں پھلوں اور پھولوں

    چہکتی ہوئی بلبلوں کی کہانی سنی تھی

    جزیرہ سمندر کی آزاد لہریں جہاں ناچتی ہیں

    جہاں امن ہی امن ہے چین ہی چین ہے

    ہر نیا دن بشارت کی بارات بن کر اترتا ہے

    میرا بیٹا جو سویا ہوا ہے کہیں تتلیوں کے تعاقب میں بے چین ہے

    ہم سبھی آنکھ موندے ہوئے تتلیوں کے تکہ کب بے بے چین ہیں

    کہ شاید اندھیرے میں لپٹے ہوئے سبز باغوں کے قصے یہ نیلا جزیرہ

    کتابوں میں دانش کی ہر لوح پر غیر مفہوم الفاظ ہیں

    کئی منچلے منچلوں کے گروہ اس جزیرے کے لمبے سفر پر گئے اور پلٹ کر نہ آئے

    میرا بیٹا جو سویا ہوا تتلیوں کے تکہ کب بے بے چین ہے

    میں اسے بھی سفر پر گیا اور پلٹ کر نہ آتا ہوا دیکھتا ہوں

    ہم نے صدیوں سے پاؤں کو ہاتھوں کو سینوں کو بے درد میخوں سے چھلنی کیا

    اور لہو کی طرح سرخ لوہے سے اپنی زبانوں کو داغا

    مگر وہ جزیرہ پہاڑوں کی جانب سفر تھا

    کہ چلتے تو وہ دور ہی دور جاتا

    ٹھہرتے تو جیسے وہ نزدیک آتا

    یوں ہی نسل در نسل ہم نے اندھیرے میں لپٹے ہوئے ان جزیروں کی باتیں کہیں

    اور ان جھوٹ کی جھالروں حاشیوں کو اٹھائے رکھا

    نسل در نسل ہم قافلہ قافلہ بیل کندھے بدلتے حسیں جھوٹ کی یہ صلیبیں اٹھاتے رہے

    میں کہ جامد ذہانت کا قائل نہیں

    ہم نے اپنے سے پہلوں کے علم و فراست کی تشریح و تاویل میں اپنی رگ رگ سے

    ساری ذہانت کو غارت کیا

    ہم نے اپنے بزرگوں کی خفت مٹانے چھپانے کی خاطر لہو مومیائی کیا

    کسی نے کہا وہ جزیرہ سمندر کے اس پار ہے

    اور ہم نسل در نسل ڈوبی ہوئی کشتیاں بن گئے

    کسی نے کہا وہ جزیرہ افق سے پرے آخری فاصلے کے دھوئیں میں چھپا ہے

    اور ہم قہر صحرا میں بارات بردار ٹوٹا ہوا قافلہ بن گئے

    مگر وہ جزیرہ عجب دلدلوں کا سفر ہے

    کہ سو کوس جائیں تو جیسے فقط دو قدم ہی چلے ہیں

    مگر وہ جزیرہ پہاڑوں کی جانب سفر ہے

    کہ جائیں تو وہ دور ہی دور جائے

    جو ٹھہریں تو جیسے وہ نزدیک آئے

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 157)
    • Author : Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے