Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سورج کا شہکار

شاداب رضی

سورج کا شہکار

شاداب رضی

MORE BYشاداب رضی

    دھرتی ناچے تکلی بن کر

    سورج اپنی جگہ پہ بیٹھا

    وایو منڈل کے ریشم سے

    گالوں جیسے نرم ملائم

    بالوں سے باریک

    رنگ برنگے دھاگے کاتے

    پھر دھاگوں کو پرو پرو کر

    سورج بنتا جائے چادر

    رنگ برنگی چادر

    کالی چادر بن کر اس میں ٹانکے چاند ستارے

    اجلی چادر میں پگھلی چاندی کی چمک جگائے

    اور سنہری چادر پر سونے کی پرت چڑھائے

    جب کالی چادر پھیلائے سجے سہانی شام

    اجلی چادر لہرائے تو ہو پونم کی رات

    اور سنہری چادر ہنستا گاتا دن دکھلائے

    وہ دن جس کی مٹھی میں ہے

    رونق چہل پہل

    وہ دن جس کی آہٹ میں ہے

    چڑیوں کی چہکار

    وہ دن جس کی سانسوں میں ہے

    پھولوں کی مہکار

    اندھیارے میں ڈوبے جگ کو جو کر دے تابندہ

    وہ دن جو مردوں کو پھر سے کر دیتا ہے زندہ

    سورج بیٹھا بیٹھا اپنا کیا کیا ہنر دکھائے

    جتنا اس کے ہنر کو دیکھو حیرت بڑھتی جائے

    کبھی دکھائے شفق کی لالی

    کبھی گھٹائیں کالی

    اک سترنگی سی چادر ہے سورج کا شہکار

    جس کی ایک جھلک سے پھوٹے دھنک دھنک ہر بار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے