دھرتی ناچے تکلی بن کر
سورج اپنی جگہ پہ بیٹھا
وایو منڈل کے ریشم سے
گالوں جیسے نرم ملائم
بالوں سے باریک
رنگ برنگے دھاگے کاتے
پھر دھاگوں کو پرو پرو کر
سورج بنتا جائے چادر
رنگ برنگی چادر
کالی چادر بن کر اس میں ٹانکے چاند ستارے
اجلی چادر میں پگھلی چاندی کی چمک جگائے
اور سنہری چادر پر سونے کی پرت چڑھائے
جب کالی چادر پھیلائے سجے سہانی شام
اجلی چادر لہرائے تو ہو پونم کی رات
اور سنہری چادر ہنستا گاتا دن دکھلائے
وہ دن جس کی مٹھی میں ہے
رونق چہل پہل
وہ دن جس کی آہٹ میں ہے
چڑیوں کی چہکار
وہ دن جس کی سانسوں میں ہے
پھولوں کی مہکار
اندھیارے میں ڈوبے جگ کو جو کر دے تابندہ
وہ دن جو مردوں کو پھر سے کر دیتا ہے زندہ
سورج بیٹھا بیٹھا اپنا کیا کیا ہنر دکھائے
جتنا اس کے ہنر کو دیکھو حیرت بڑھتی جائے
کبھی دکھائے شفق کی لالی
کبھی گھٹائیں کالی
اک سترنگی سی چادر ہے سورج کا شہکار
جس کی ایک جھلک سے پھوٹے دھنک دھنک ہر بار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.