تمہیں کب لوٹنا ہے مجھ کو لکھو (ردیف .. ے)
تمہیں کب لوٹنا ہے مجھ کو لکھو
منتظر آنکھوں کے ٹھہرے پانیوں میں
کائی جمتی جا رہی ہے
جو منظر کل تلک تازہ تھے
دھندلانے لگے ہیں
یوں ہی بے کار بیٹھے شوق کے پنچھی
بھی منقاروں کو زیر پر کئے
گیتوں سے رشتہ توڑنے کی کشمکش میں
مبتلا ہیں
ہمارے دل کا تیشہ وسوسوں کے زنگ
کی یلغار پر گریہ کناں ہے
مری جاں
قبل اس کے گیت سب
فریاد کی لے میں بکھر جائیں
ہمارے ولولے ان راستوں کی
خاک بن جائیں
مجھے لکھو تمہیں کب لوٹنا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.