Aanis Moin's Photo'

آنس معین

1965 - 1992 | ملتان, پاکستان

پاکستان کے ممتاز شاعر جنہوں نے محض ستائیس سال کی عمر میں خودکشی کر لی

پاکستان کے ممتاز شاعر جنہوں نے محض ستائیس سال کی عمر میں خودکشی کر لی

غزل 11

نظم 2

 

اشعار 31

ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا

دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

  • شیئر کیجیے

انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے

خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو

لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 1

معلم اردو

شمارہ نمبر ـ 002

1992

 

تصویری شاعری 6

ہو جائے_گی جب تم سے شناسائی ذرا اور بڑھ جائے_گی شاید مری تنہائی ذرا اور کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو_گے یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور تردید تو کر سکتا تھا پھیلے_گی مگر بات اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور کیوں ترک_تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟ اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم جیتو_گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور بڑھ جائیں_گے کچھ اور لہو بیچنے والے ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

ہو جائے_گی جب تم سے شناسائی ذرا اور بڑھ جائے_گی شاید مری تنہائی ذرا اور کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو_گے یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور تردید تو کر سکتا تھا پھیلے_گی مگر بات اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور کیوں ترک_تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟ اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم جیتو_گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور بڑھ جائیں_گے کچھ اور لہو بیچنے والے ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے بیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہے آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب_زدہ تھا پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس میں میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے شور تو یوں اٹھا تھا جیسے اک طوفاں ہو سناٹے میں جانے کیسے ڈوب گیا ہے آخری خواہش پوری کر کے جینا کیسا آنسؔ بھی ساحل تک آ کے ڈوب گیا ہے

عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے

 

آڈیو 10

اک کرب_مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • نعمان شوق نعمان شوق ہم عصر
  • شارق کیفی شارق کیفی ہم عصر

شعرا کے مزید "ملتان"

  • محمد حنیف رامے محمد حنیف رامے
  • سرفراز شاہد سرفراز شاہد
  • انوار فطرت انوار فطرت
  • ممتاز گورمانی ممتاز گورمانی
  • عباس رضوی عباس رضوی
  • عباس دانا عباس دانا
  • حمید نسیم حمید نسیم
  • ادیب سہارنپوری ادیب سہارنپوری
  • شبیر شاہد شبیر شاہد
  • اعجاز گل اعجاز گل