Abroo Shah Mubarak's Photo'

آبرو شاہ مبارک

1685 - 1733 | دلی, ہندوستان

اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں سے ایک، میر تقی میر کے ہم عصر

اردو شاعری کے بنیاد سازوں میں سے ایک، میر تقی میر کے ہم عصر

غزل 72

اشعار 72

تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے

کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے

  • شیئر کیجیے

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے

راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے

دور خاموش بیٹھا رہتا ہوں

اس طرح حال دل کا کہتا ہوں

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

دیوان آبرو

 

1990

 

تصویری شاعری 1

عشق ہے اختیار کا دشمن صبر و ہوش و قرار کا دشمن دل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرے جال ہو ہے شکار کا دشمن ساتھ اچرج ہے زلف و شانے کا مور ہوتا ہے مار کا دشمن دل_سوزاں کوں ڈر ہے انجہواں سیں آب ہو ہے شرار کا دشمن کیا قیامت ہے عاشقی کے رشک یار ہوتا ہے یار کا دشمن آبروؔ کون جا کے سمجھاوے کیوں ہوا دوست_دار کا دشمن

 

آڈیو 3

اس زلف_جاں کوں صنم کی بلا کہو

بڑھے ہے دن_بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ

مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

 

"دلی" کے مزید شعرا

  • میر اثر میر اثر
  • میر تقی میر میر تقی میر
  • ناجی شاکر ناجی شاکر
  • خاں آرزو سراج الدین علی خاں آرزو سراج الدین علی
  • محمد رفیع سودا محمد رفیع سودا
  • تاباں عبد الحی تاباں عبد الحی
  • خواجہ میر درد خواجہ میر درد
  • انشا اللہ خاں انشا انشا اللہ خاں انشا
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ