Ajmal Siddiqui's Photo'

اجمل صدیقی

1981 | دلی, ہندوستان

غزل 11

اشعار 11

بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی

خامشی نے ہیں دئے سب کو فسانے کیا کیا

بازار میں اک چیز نہیں کام کی میرے

یہ شہر مری جیب کا رکھتا ہے بھرم خوب

کبھی خوف تھا ترے ہجر کا کبھی آرزو کے زوال کا

رہا ہجر و وصل کے درمیاں تجھے کھو سکا نہ میں پا سکا

کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں

اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا

ہر ایک صبح وضو کرتی ہیں مری آنکھیں

کہ شاید آج تو آ جائے وہ حبیب نظر

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

  • ابھیشیک شکلا ابھیشیک شکلا ہم عصر

"دلی" کے مزید شعرا

  • مرزا غالب مرزا غالب
  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • فرحت احساس فرحت احساس
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • مومن خاں مومن مومن خاں مومن
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • انس خان انس خان
  • تاباں عبد الحی تاباں عبد الحی