تمام
تعارف
غزل136
نظم7
شعر141
مزاحیہ11
ای-کتاب77
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 15
آڈیو 20
ویڈیو 11
قطعہ37
رباعی54
قصہ8
گیلری 1
بلاگ2
دیگر
مخمس1
اکبر الہ آبادی کے قصے
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا
کلکتہ کی مشہور مغنیہ گوہر جان ایک مرتبہ الہ آباد گئی اور جانکی بائی طوائف کے مکان پر ٹھہری۔ جب گوہر جان رخصت ہونے لگی تو اپنی میزبان سے کہا کہ ’’میرا دل خان بہادر سید اکبر الہ آبادی سے ملنے کو بہت چاہتا ہے۔‘‘ جانکی بائی نے کہا کہ ’’آج میں وقت مقرر
مجھے علم آیا نہ انہیں عقل
اکبرکے مشہور ہوجانے پر بہت سے لوگوں نے ان کی شاگردی کا دعوی کردیا۔ ایک صاحب کو دور کی سوجھی۔ انہوں نے خود کو اکبر کا استاد مشہور کردیا۔ اکبر کو جب یہ اطلاع پہنچی کہ حیدرآباد میں ان کے ایک استاد کا ظہور ہوا ہے، تو کہنے لگے، ’’ہاں مولوی صاحب کا ارشاد سچ
ڈاڑھی سے مونچھ تک
نامور ادیب اور شاعر مرحوم سید اکبر حسین اکبرؔ الہ آبادی اپنی روشن خیالی کے باوجود مشرقی تہذیب کے دلدادہ تھے اور وضع کے پابند۔ داڑھی منڈوانے کا روا ج ہندوستان میں عام تھا۔ لیکن لارڈ کرزن جب ہندوستان آئے تو ان کی دیکھا دیکھی مونچھ بھی صفایا ہونے لگی۔
جان من تم تو خود پٹاخہ ہو
ایک دن اکبر الہ آبادی سے ان کے ایک دوست ملنے آئے۔ اکبرؔ نے پوچھا، ’’کہئے آج ادھر کیسے بھول پڑے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا، ’’آج شب برات ہے۔ لہذا آپ سے شبراتی لینے آیا ہوں۔‘‘ اس پر اکبر الہ آبادی نے برجستہ جواب دیا، تحفۂ شب رات تمہیں کیا دوں جان من تم
خالو کے آلو
اکبرالہ آبادی دلی میں خواجہ حسن نظامی کے ہاں مہمان تھے۔ سب لوگ کھانا کھانے لگے تو آلو کی ترکاری اکبر کو بہت پسند آئی۔ انہوں نے خواجہ صاحب کی دختر حور بانو سے (جو کھانا کھلارہی تھی) پوچھا کہ بڑے اچھے آلو ہیں۔ کہاں سے آئے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خالو
ہر چند کہ کوٹ بھی ہے پتلون بھی ہے
الہ آباد کے ایک ایٹ ہوم میں اکبر الہ آبادی بھی شریک ہوئے۔ وہاں طرح طرح کے انگریزی لباس پہنے ہوئے ہندستانی جمع تھے۔ ایک کالے صاحب بھی تھے۔ ان کو انگریزی لباس جچتا نہ تھا۔ ان پر حضرت اکبر الہ آبادی نے پھبتی کسی، ہر چند کہ کوٹ بھی ہے پتلون بھی ہے