Akbar Hyderabadi's Photo'

اکبر حیدرآبادی

1925 | لندن, برطانیہ

اکبر حیدرآبادی

غزل 22

نظم 9

اشعار 21

چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہی

جلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا

آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے

ہے تمنا کا وہی جو زندگی کا حال ہے

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے

لبوں پر تبسم تو آنکھوں میں آنسو تھی دھوپ ایک پل میں تو اک پل میں بارش

ہمیں یاد ہے باتوں باتوں میں ان کا ہنسانا رلانا رلانا ہنسانا

  • شیئر کیجیے

چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی

خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

رباعی 11

کتاب 5

 

تصویری شاعری 2

 

آڈیو 5

آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے

بس اک تسلسل_تکرار_قرب_و_دوری تھا

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے_گا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے