Akhtar Ansari's Photo'

اختر انصاری

1909 - 1988

طنز پر مائل جذباتی شدت کے لئے معروف

طنز پر مائل جذباتی شدت کے لئے معروف

غزل 45

اشعار 25

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

  • شیئر کیجیے

ہاں کبھی خواب عشق دیکھا تھا

اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے

وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا

نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے

رباعی 24

قطعہ 74

ای- کتاب 34

آبگینے

 

1945

آبگینے

 

 

افادی ادب

 

1959

اختر انصاری : شخص اور شاعر

 

1990

اختر انصاری اور ان کی غزل گوئی

 

2006

چند نظمیں

 

 

دہان زخم

 

1971

دہان زخم

 

1971

ایک قدم اور سہی

 

1984

غزل اور درس غزل

 

1959

تصویری شاعری 3

اب کہاں ہوں کہاں نہیں ہوں میں جس جگہ ہوں وہاں نہیں ہوں میں کون آواز دے رہا ہے مجھے؟ کوئی کہہ دو یہاں نہیں ہوں میں

وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی وہ شب کو خون رونے کی عادت نہیں رہی محسوس کر رہا ہوں میں جینے کی تلخیاں شاید مجھے کسی سے محبت نہیں رہی