noImage

علی اکبر عباس

1948 | پاکستان

غزل 21

نظم 3

 

اشعار 10

ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے

ہوا نے نوچا انہیں یوں کہ بس بکھر ہی رہے

اک صدا کی صورت ہم اس ہوا میں زندہ ہیں

ہم جو روشنی ہوتے ہم پہ بھی جھپٹتی رات

کبھی سر پہ چڑھے کبھی سر سے گزرے کبھی پاؤں آن گرے دریا

کبھی مجھے بہا کر لے جائے کبھی مجھ میں آن بہے دریا

ای- کتاب 1

بر آب نیل

 

1978