انیس الرحمان کی تلمیحات
آب حیات
آب حیات سے مراد پانی کا وہ چشمہ ہے جس کی نسبت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا پانی پی لینے سے حیات جاودانی حاصل ہو جاتی ہے۔ اساطیر میں حضرت خضرکی دائمی زندگی کا راز بھی یہی ملتا ہے کہ انہوں نے آب حیات پی کر دائمی زندگی حاصل کرلی تھی، وہ قیامت تک عام انسانوں
ابلیس
قرآن میں ابلیس کے بارے میں خاصی تفصیلات موجود ہیں۔ یہ جنات کی نسل سے تھا اور اپنی عبادت وریاضت کی بنا پرفرشتوں کے حلقے میں شامل ہو گیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا لقب معلم الملکوت (فرشتوں کا استاد) تھا۔ آدم کی تخلیق کے بعد خدا نے تمام فرشتوں
ساقی کوثر
کوثروتسنیم جنت کی دونہروں کے نام ہیں جو قیامت کے دن محمدؐ کو دی جایئں گی اوروہ جنت میں جانے والے لوگوں کواس سے سیراب کریں گے۔ اسی رعایت سے محمدؐ کو ساقیِ کوثربھی کہا جاتا ہے ۔ کوثرکے پانی کے متعلق طبری نے لکھا ہے کہ یہ برف سے زیادہ ٹھنڈا ، شہد سے زیادہ
باغ ارم / بہشت شداد
حضرت داؤد کے عہد نبوت میں شداد ایک جابرو ظالم بادشاہ تھا۔ حضرت داؤد نے اسے ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا اوراس تک خدا کا پیغام پہنچایا لیکن اس کی ہٹ دھرمی کی انتہا یہ ہوئی کہ اس نے نہ صرف یہ کہ حضرت داؤد کی نبوت اورخدا کی یکتائی کا انکارکیا بلکہ اپنے
ید بیضا
ید بیضا کی ترکیب عربی زبان کے دو لفظوں پر مشتمل ہے، ید اور بیضا۔ ید کے معنی ہاتھ اور بیضا کے معنی سفید اور چمک دار کے آتے ہیں۔ حضرت موسی کو کوہ طور پر خدا سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا تھا اورنبوت عطا کی گئی تھی، ساتھ ہی ان کو خدا کی طرف سے دو معجزے
آئینۂ سکندری
سکندراورایران کے بادشاہ دارا کے درمیان کئ جنگیں ہوئیں لیکن سکندردارا کی تدبیروں کی وجہ سے شکست کھا جاتا تھا۔ دارا جام جہاں نما کی مدد سے سکندرکی تمام نقل وحرکت اورتیاریوں سے آگاہ ہوجاتا اورسکندرکی تمام تیاریاں دھری کی دھری رہ جاتیں۔ آخرکاراس نے حکومت
من و سلویٰ
فرعون کےقہر سے بچ نکلنے کے بعد بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے پہلا مطالبہ پانی کا کیا تھا۔ حضرت موسی نے ایک چٹان پر اپنا عصا مارا اوربارہ قبیلوں کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔ اس کے بعد بنواسرائیل نے کھانے کا مطالبہ کیا ۔ موسی نے خدا سے دعا کی،
روزجزا / روزحشر
مذہب اسلام کے مطابق دنیا کی میعاد ایک مقررہ وقت تک ہے۔ اس کے بعد یہ ساری کائنات ختم کردی جائے گی اورانسانوں کواس دنیا میں کئے گئے ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جس نے جیسے اعمال اس دینا میں کئے ہوں گے اسی کےمطابق اس کے لیے جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا اسی
براق اور شب معراج
براق وہ جانور تھا جو معراج کی رات میں رسول اللہ کی سواری کےلیے استعمال کیا گیا تھا ۔ جب جبرئیل نے آپ کو کعبہ سے بیت المقدس لے جانا چاہا تو سواری کی غرض سے یہ جانور پیش کیا۔ یہ جانور اپنی جسامت میں خچر سے کچھ چھوٹا اور گدھے سے کچھ بڑا تھا۔ اس کا رنگ
پیرہن یوسف
پیرہن یوسف کی تلمیح تین واقعات سے منسلک ہے، شعرادب میں ان تینوں واقعات کو تلمیحی طورپر برتنے کیلئے اس کا استعمال ہوا ہے۔ (۱) یوسف کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا اوران کی قمیص کسی جانور کےخون سے آلودہ کرکے حضرت یعقوب کے پاس لے آئے اور کہنے
جبرئیل
عبرانی زبان میں جبرئیل کے معنی مرد خدا کے ہوتے ہیں ۔ اسلامی شریعت میں جبرئیل خدا کے چار مقرب فرشتوں میں سے ایک ہیں ۔ پیغمبروں اوررسولوں تک خدا کا پیغام پہنچانے کا کام بھی انہیں کے سپرد تھا ۔ قرآن اورحدیث میں حضرت جبرئیل کے اوربھی کئی نام آئے ہیں ۔
طور
حضرت موسیٰ نے مدین شہر میں ایک لمباعرصہ گزارا، اپنے قیام کے دوران ہی وہ اپنے خسرکے مویشیوں کی گلہ بانی کرتے رہے۔ ایک دن موسیٰ اہل وعیال کے ساتھ بکریاں چراتے چراتے مدین سے کافی دورنکل گئے اورچلتے چلتے ایک پہاڑکی وادی میں جا پہنچے۔ اسی پہاڑ کوکوہ سینا