noImage

عارف شفیق

1956 | پاکستان

غزل 10

اشعار 8

جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی

مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی

غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ

امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی

اپنے دروازے پہ خود ہی دستکیں دیتا ہے وہ

اجنبی لہجے میں پھر وہ پوچھتا ہے کون ہے

  • شیئر کیجیے

کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا

ٹوٹ گیا ہے ایک کھلونا مٹی کا

اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل

یہ زندگی بھی خواب ہے تو خواب سے نکل