Aslam Aazad's Photo'

اسلم آزاد

1948 - 2022 | پٹنہ, انڈیا

شاعر اور مصنف، آزادی کے بعد اردو ناول کی صورتحال پر ایک کتاب لکھی، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے

شاعر اور مصنف، آزادی کے بعد اردو ناول کی صورتحال پر ایک کتاب لکھی، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے

اسلم آزاد

غزل 17

نظم 5

 

اشعار 12

راستہ سنسان تھا تو مڑ کے دیکھا کیوں نہیں

مجھ کو تنہا دیکھ کر اس نے پکارا کیوں نہیں

ہزار بار نگاہوں سے چوم کر دیکھا

لبوں پہ اس کے وہ پہلی سی اب مٹھاس نہیں

  • شیئر کیجیے

دوستوں کے ساتھ دن میں بیٹھ کر ہنستا رہا

اپنے کمرے میں وہ جا کر خوب رویا رات بھر

دھوپ کے بادل برس کر جا چکے تھے اور میں

اوڑھ کر شبنم کی چادر چھت پہ سویا رات بھر

اپنا مکان بھی تھا اسی موڑ پر مگر

جانے میں کس خیال میں اوروں کے گھر گیا

کتاب 12

"پٹنہ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے