Azhar Iqbal's Photo'

اظہر اقبال

1978 | میرٹھ, ہندوستان

ہندوستان کی نوجوان نسل کے مشہور شاعر

ہندوستان کی نوجوان نسل کے مشہور شاعر

350
Favorite

باعتبار

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد

روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد

گھٹن سی ہونے لگی اس کے پاس جاتے ہوئے

میں خود سے روٹھ گیا ہوں اسے مناتے ہوئے

یہ کیفیت ہے میری جان اب تجھے کھو کر

کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بہت دن سے

تمہارے آنے کی امید بر نہیں آتی

میں راکھ ہونے لگا ہوں دئیے جلاتے ہوئے

ایک مدت سے ہیں سفر میں ہم

گھر میں رہ کر بھی جیسے بے گھر سے

نہ جانے ختم ہوئی کب ہماری آزادی

تعلقات کی پابندیاں نبھاتے ہوئے

ہر ایک شخص یہاں محو خواب لگتا ہے

کسی نے ہم کو جگایا نہیں بہت دن سے

ہے اب بھی بستر جاں پر ترے بدن کی شکن

میں خود ہی مٹنے لگا ہوں اسے مٹاتے ہوئے

پھر اس کے بعد منایا نہ جشن خوشبو کا

لہو میں ڈوبی تھی فصل بہار کیا کرتے

ہر ایک سمت یہاں وحشتوں کا مسکن ہے

جنوں کے واسطے صحرا و آشیانہ کیا