Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فرح خان کے اشعار

اس کا ملنا ہے عجب طرح کا مجھ سے ملنا

دشت امکان میں ہو پھولوں کا جیسے کھلنا

مل ہی جاؤ گے مجھے وقت کی گردش سے پرے

بس ذرا جسم کی دیوار گرانی ہوگی

ہم بھول گئے عہد و کرم تیرے ستم بھی

اب تجھ سے زمانے سے گلہ کچھ بھی نہیں ہے

نہیں نصیب میں منزل تو راستے کیوں ہیں

طویل تر یہ جدائی کے سلسلے کیوں ہیں

حد امکاں سے پرے تک میں تجھے چاہوں گی

تو مجھے اپنے میسر کی حدوں میں ملنا

اس تیری محبت میں ملا کچھ بھی نہیں ہے

میں جان گئی ہوں کہ صلہ کچھ بھی نہیں ہے

یہ خد و خال بھی لگتے ہیں اب پرائے سے

مجھے دکھاتے نہیں ہیں تو آئنہ کیوں ہیں

نہ اس میں پھول کھلا اور نہ کوئی خواب اگا

کہ سنگلاخ بہت تھی زمیں حقیقت کی

Recitation

بولیے