Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Farhat Abbas's Photo'

فرحت عباس

1956 | لاہور, پاکستان

فرحت عباس کے اشعار

2.4K
Favorite

باعتبار

ہر طرف دوستی کا میلہ ہے

پھر بھی ہر آدمی اکیلا ہے

دونوں لازم ہیں لا زوال بھی ہیں

اک ترا حسن اک مرا یہ عشق

تیرے سانچے میں ڈھل گیا آخر

شہر سارا بدل گیا آخر

جسے بھی دوست بنایا وہ بن گیا دشمن

یہ ہم نے کون سی تقصیر کی سزا پائی

ہار جائے گی زندگی لیکن

ہارنے کا نہیں مرا یہ عشق

کس سادگی سے وہ بھی دغا دے گیا مجھے

جس شخص نے کہا تھا کبھی دیوتا مجھے

فرحتؔ سناؤں کس کو کہانی میں گاؤں کی

گھر گھر میں زندہ لاشیں تھیں مجبور ماؤں کی

چہرے بدل بدل کے کہانی سنا گئے

درد و الم فراق مری جاں کو آ گئے

میرے ہر ایک سچ پہ انہیں جھوٹ کا گماں

کرتا ہے بد گمان خدا خیر ہی کرے

میں عقیدت میں نعت لکھتا ہوں

میں حقیقت میں نعت لکھتا ہوں

شہر کا شہر مری جاں کی طلب رکھتا ہے

آج سوچا ہے یہی جان کا صدقہ دے دوں

وہ میرے بخت کی تحریر کیوں نہیں بنتا

وہ میرا خواب ہے تعبیر کیوں نہیں بنتا

پھیلے ہیں سارے شہر میں قصے عجیب سے

گزرا ہے جب بھی پھول سا چہرہ قریب سے

اک دوسرے سے خوف کی شدت تھی اس قدر

کل رات اپنے آپ سے میں خود لپٹ گیا

یہ کائنات آج بھی منسوب آپ سے

یہ کائنات آج بھی جاگیر آپ کی

تم اسے لے چلو لب کوثر

اے فرشتو یہ کربلائی ہے

زلزلوں کی نمود سے فرحتؔ

مستقر مستقر نہیں رہتے

تعمیر کر گئے کبھی مسمار ہو گئے

لمحے مری اٹھان کو دیوار کر گئے

رقص کرتے ہوئے بگولوں میں

ماتمی شور بھی ہوا کا ہے

بے تابیٔ اظہار نے یوں خاک کیا ہے

دزدیدہ نگاہی نے مجھے چاک کیا ہے

لاکھ اجزا میں ہو گیا تقسیم

کیا عجب مجتمع ہوا فرحتؔ

دن نکلتے ہی بدن پر حبس کی یورش ہوئی

رات بھر سوچوں کے پتھراؤ سے سر جلتا رہا

بات اہل جنوں کی کیا سمجھے

وہ خرد جو کڑے زیان میں ہے

Recitation

بولیے