فرحت شہزاد

غزل 20

اشعار 14

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز

یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

  • شیئر کیجیے

زندگی کٹ گئی مناتے ہوئے

اب ارادہ ہے روٹھ جانے کا

  • شیئر کیجیے

عزیز مجھ کو ہیں طوفان ساحلوں سے سوا

اسی لیے ہے خفا میرا ناخدا مجھ سے

یہ زمیں خواب ہے آسماں خواب ہے

اک مکاں ہی نہیں لا مکاں خواب ہے

ہم سے تنہائی کے مارے نہیں دیکھے جاتے

بن ترے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

کتاب 1

مت سوچا کر

 

2001

 

متعلقہ شعرا

  • خوشبیر سنگھ شادؔ خوشبیر سنگھ شادؔ ہم عصر
  • سلیم کوثر سلیم کوثر ہم عصر
  • اجمل سراج اجمل سراج ہم عصر