noImage

فردوس گیاوی

1954

غزل 8

اشعار 5

علم کی ابتدا ہے ہنگامہ

علم کی انتہا ہے خاموشی

  • شیئر کیجیے

تمام عمر جو ہنستا ہی رہ گیا یارو

بلا کا درد تھا اس شخص کی کہانی میں

  • شیئر کیجیے

تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اسی عالم میں

بگڑے حالات غریبوں کے سنورتے ہیں کہیں

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

کاٹھ کا لشکر

 

1970

 

تصویری شاعری 1

وہ ظلم_و_ستم ڈھائے اور مجھ سے وفا مانگے جیسے کوئی گل کر کے دیپک سے ضیا مانگے جینا بڑی نعمت ہے جینے کا چلن سیکھیں اچھا تو نہیں کوئی مرنے کی دعا مانگے غم بھی ہے اداسی بھی تنہائی بھی آنسو بھی سب کچھ تو میسر ہے دل مانگے تو کیا مانگے آئین_وطن پر تو دل وار چکے اپنا ناموس_وطن ہم سے اب رنگ_حنا مانگے اوقات ہے کیا اس کی وہ پیش_نظر رکھے انساں نہ کوئی اپنے دامن سے سوا مانگے رمتا ہوا جوگی ہوں بہتا ہوا پانی ہوں ہرگز نہ کوئی مجھ سے اب میرا پتا مانگے پھر چہرۂ_قاتل کی نظروں کو ضرورت ہے پھر کوچۂ_قاتل کی دل آب_و_ہوا مانگے وہ سیر_گلستاں کو فردوسؔ جو آ جائے مسکان کلی چاہے رفتار_صبا مانگے