Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
George Puech Shor's Photo'

جارج پیش شور

1823 - 1894 | میرٹھ, انڈیا

جارج پیش شور کے اشعار

942
Favorite

باعتبار

دل میں اپنے آرزو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

دو جہاں کی جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

ہوا کے گھوڑے پہ رہتا ہے وہ سوار مدام

کسی کا اس کے برابر فرس نہیں چلتا

گزشتہ سال جو دیکھا وہ اب کی سال نہیں

زمانہ ایک سا بس ہر برس نہیں چلتا

ذرہ کی طرح خاک میں پامال ہو گئے

وہ جن کا آسماں پہ سر پر غرور تھا

اک نظر نے کیا ہے کام تمام

آرزو بھی تو تھی یہی دل کی

شوق نے کی جو رہبری دل کی

منزل عشق طے ہوئی دل کی

اسی خیال میں دن رات میں تڑپتا ہوں

تمہیں قرار بھی دو گے جو بے قرار کیا

دیتے نہ دل جو تم کو تو کیوں بنتی جان پر

کچھ آپ کی خطا نہ تھی اپنا قصور تھا

رکے ہے آمد و شد میں نفس نہیں چلتا

یہی ہے حکم الٰہی تو بس نہیں چلتا

جہاں میں زر کا ہے کارخانہ نہ کوئی اپنا نہ ہے یگانہ

تلاش دولت میں ہے زمانہ خدا ہی حافظ ہے مفلسی کا

اس ماہ رو پہ آنکھ کسی کی نہ پڑ سکی

جلوہ تھا طور کا کہ سراسر وہ نور تھا

تمہارے عشق میں کیا کیا نہ اختیار کیا

کبھی فلک کا کبھی غیر کا وقار کیا

عدم سے ہستی میں جب ہم آئے نہ کوئی ہمدرد ساتھ لائے

جو اپنے تھے وہ ہوئے پرائے اب آسرا ہے تو بیکسی کا

ہے تلاش دو جہاں لیکن خبر اپنی کسے

جیتے جی تک جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

دور ہم سے ہیں وہ تو کیا ڈر ہے

پاس ہے اپنے آرسی دل کی

اک خیال و خواب ہے اے شورؔ یہ بزم جہاں

یار اور جام و سبو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیں

جب جوانی گئی چھڑا کر ہاتھ

اس پہ پیری نہ کچھ چلی دل کی

جان پر اپنی ہائے کیوں بنتی

بات جو مانتے کبھی دل کی

پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نما

آیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھا

نہیں ہے ٹوٹے کی بوٹی جہان میں پیدا

شکستہ جب ہوا تار نفس نہیں چلتا

Recitation

بولیے