noImage

حبیب موسوی

حبیب موسوی

غزل 30

اشعار 39

دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب

مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے

  • شیئر کیجیے

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

  • شیئر کیجیے

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ

  • شیئر کیجیے

قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں

ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے

  • شیئر کیجیے

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 2

دیوان حبیب

 

 

دیوان حبیب

 

1900

 

تصویری شاعری 1

دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے