Hadi Machlishahri's Photo'

ہادی مچھلی شہری

1890 - 1961 | پاکستان

ہادی مچھلی شہری

غزل 14

اشعار 14

غم دل اب کسی کے بس کا نہیں

کیا دوا کیا دعا کرے کوئی

تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیز

کس سے کس کا گلا کرے کوئی

وہ پوچھتے ہیں دل مبتلا کا حال اور ہم

جواب میں فقط آنسو بہائے جاتے ہیں

مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا

فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں

بے درد مجھ سے شرح غم زندگی نہ پوچھ

کافی ہے اس قدر کہ جیے جا رہا ہوں میں

کتاب 2

نوائے دل

 

1947

نوائے دل

دیوان ہائے مچھلی شہری

1947