ہاشم علی خاں دلازاک کے اشعار
اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے
کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ
اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے
کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere