Ibrahim Ashk's Photo'

ابراہیم اشکؔ

1951 | ممبئی, انڈیا

فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ کے نغموں کے لیے مشہور

فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ کے نغموں کے لیے مشہور

ابراہیم اشکؔ

غزل 18

اشعار 19

تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے

ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں

انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے

میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے

الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے

دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی

بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا

دوہا 3

پیاسی دھرتی دیکھ کے بادل اڑ اڑ جائے

یہ دنیا کی ریت ہے ترسے کو ترسائے

  • شیئر کیجیے

پتھر میں بھی آگ ہے چھیڑو تو جل جائے

جو اس آگ میں تپ گیا وہ ہیرا کہلائے

  • شیئر کیجیے

من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت

خود میں اتنا ڈوب جا مل جائے گا میت

  • شیئر کیجیے
 

کتاب 17

ویڈیو 17

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
At a mushaira

ابراہیم اشکؔ

At a mushaira

ابراہیم اشکؔ

At Abu Dhabi Mushaira

ابراہیم اشکؔ

At Datia Mushaira

ابراہیم اشکؔ

Main khwabon me to dariya dekhta hoon

ابراہیم اشکؔ

Nazm Kachcha Ghar recited by Ibrahim Ashk

ابراہیم اشکؔ

Reciting his own nazm

ابراہیم اشکؔ

Reciting his own Nazm - Aakhri Khat

ابراہیم اشکؔ

Reciting his own Nazm - Maa

ابراہیم اشکؔ

Reciting own poetry

ابراہیم اشکؔ

Reciting own poetry

ابراہیم اشکؔ

Ibrahim Ashk

ابراہیم اشکؔ

متعلقہ شعرا

"ممبئی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے