افتخار نسیم

غزل 32

اشعار 21

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا

اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں

کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں

  • شیئر کیجیے

مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے

کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے

ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے

زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو

تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

شمارہ نمبر-010،011

1992

 

تصویری شاعری 4

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا ہر گھڑی تیار ہے دل جان دینے کے لیے اس نے پوچھا بھی نہیں یہ پھر بھی آمادہ لگا کارواں ہے یا سراب_زندگی ہے کیا ہے یہ ایک منزل کا نشاں اک اور ہی جادہ لگا روشنی ایسی عجب تھی رنگ_بھومی کی نسیمؔ ہو گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا

 

آڈیو 11

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک

تیری آنکھوں کی چمک بس اور اک پل ہے ابھی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے