Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

اقبال خسرو قادری

اقبال خسرو قادری کے اشعار

جب سایہ بھی شیشے کی طرح ٹوٹ گیا

دیوار نے دیکھا یہ تماشہ نہ کبھی

بند آنکھوں میں سارا تماشہ دیکھ رہا تھا

رستہ رستہ میرا رستہ دیکھ رہا تھا

میں نہیں ملتا کسی سے

بند پھاٹک بولتا ہے

روتا ہے کوئی کسی کے غم میں

سب اپنے ہی دکھ بچارتے ہیں

سرحد جاں تلک قلمرو دل

اس سے آگے نظام درد کا ہے

Recitation

بولیے