Javed Nasir's Photo'

جاوید ناصر

1949 - 2006

غزل 21

نظم 6

اشعار 12

کھلتی ہیں آسماں میں سمندر کی کھڑکیاں

بے دین راستوں پہ کہیں اپنا گھر تو ہے

اٹھ اٹھ کے آسماں کو بتاتی ہے دھول کیوں

مٹی میں دفن ہو گئے کتنے صدف یہاں

جنبش مہر ہے ہر لفظ تری باتوں کا

رنگ اڑتا نہیں آنکھوں سے ملاقاتوں کا

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 4

تلافی

 

 

تلافی

 

1977

تازیانہ

 

2006

نیا ورق،ممبئی

گوشۂ جاوید ناصر : شمارہ نمبر-024

2006

 

آڈیو 4

بہت اداس تھا اس دن مگر ہوا کیا تھا

حیرت سے دیکھتی ہے دریچوں کی صف یہاں

دنیا ہے تیز دھوپ سمندر ہے جیسے تو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے

Added to your favorites

Removed from your favorites