Javed Nasir's Photo'

جاوید ناصر

1949 - 2006

جاوید ناصر کی تمام

غزل 21

اشعار 12

بہت اداس تھا اس دن مگر ہوا کیا تھا

ہر ایک بات بھلی تھی تو پھر برا کیا تھا

دشت کی دھوپ ہے جنگل کی گھنی راتیں ہیں

اس کہانی میں بہر حال کئی باتیں ہیں

دوستو تم سے گزارش ہے یہاں مت آؤ

اس بڑے شہر میں تنہائی بھی مر جاتی ہے

رات آ جائے تو پھر تجھ کو پکاروں یارب

میری آواز اجالے میں بکھر جاتی ہے

خدا آباد رکھے زندگی کو

ہماری خامشی کو سہہ گئی ہے

کتاب 5

مکتوبات خلیل الرحمٰن اؑعظمی

 

1980

تعارف مکتوبات خلیل الرحمٰن اعظمی

 

1982

تلافی

 

 

تلافی

 

1977

تازیانہ

 

2006

 

تصویری شاعری 2

دشت کی دھوپ ہے جنگل کی گھنی راتیں ہیں اس کہانی میں بہر حال کئی باتیں ہیں گو ترے ساتھ مرا وقت گزر جاتا ہے شہر میں اور بھی لوگوں سے ملاقاتیں ہیں جتنے اشعار ہیں ان سب پہ تمہارا حق ہے جتنی نظمیں ہیں مری نیند کی سوغاتیں ہیں کیا کہانی کو اسی موڑ پہ رکنا ہوگا روشنی ہے نہ سمندر ہے نہ برساتیں ہیں

 

آڈیو 4

بہت اداس تھا اس دن مگر ہوا کیا تھا

حیرت سے دیکھتی ہے دریچوں کی صف یہاں

دنیا ہے تیز دھوپ سمندر ہے جیسے تو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے