کاشف سید کے اشعار
اس پرائے شہر میں اے کاش کوئی یہ کہے
رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے تمہیں
ہم جون ایلیاؔ کے زمانے میں دوستو
غالبؔ کا انتخاب لئے سوچتے رہے
ہجرتوں کے کرب کو ایسے چھپانا ہے تمہیں
کوئی جب بھی حال پوچھے مسکرانا ہے تمہیں
لوگ ہم سے سیکھتے ہیں غم چھپانے کا ہنر
آؤ تم کو بھی سکھا دیں مسکرانے کا ہنر
ذرا سا وقت جو بدلا تو ہم پہ ہنسنے لگے
ہمارے کاندھے پہ سر رکھ کے رونے والے لوگ
کیا غضب ہے تجربے کی بھینٹ تم ہی چڑھ گئے
تم سے ہی سیکھا تھا ہم نے دل دکھانے کا ہنر
آنکھوں میں اپنی خواب لئے سوچتے رہے
جیسے کوئی کتاب لئے سوچتے رہے