Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kashif Syed's Photo'

کاشف سید

1987 | بھیونڈی, انڈیا

مشہور نوجوان شاعروں میں شامل، شعروں میں سادگی پائی جاتی ہے

مشہور نوجوان شاعروں میں شامل، شعروں میں سادگی پائی جاتی ہے

کاشف سید کے اشعار

اس پرائے شہر میں اے کاش کوئی یہ کہے

رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا ہے تمہیں

ہم جون ایلیاؔ کے زمانے میں دوستو

غالبؔ کا انتخاب لئے سوچتے رہے

ہجرتوں کے کرب کو ایسے چھپانا ہے تمہیں

کوئی جب بھی حال پوچھے مسکرانا ہے تمہیں

لوگ ہم سے سیکھتے ہیں غم چھپانے کا ہنر

آؤ تم کو بھی سکھا دیں مسکرانے کا ہنر

ذرا سا وقت جو بدلا تو ہم پہ ہنسنے لگے

ہمارے کاندھے پہ سر رکھ کے رونے والے لوگ

کیا غضب ہے تجربے کی بھینٹ تم ہی چڑھ گئے

تم سے ہی سیکھا تھا ہم نے دل دکھانے کا ہنر

آنکھوں میں اپنی خواب لئے سوچتے رہے

جیسے کوئی کتاب لئے سوچتے رہے

ایسا نہ ہو کہ دوستی بھی جائے ہاتھ سے

ہم ہاتھ میں گلاب لئے سوچتے رہے

Recitation

بولیے