Khurshid Rabbani's Photo'

خورشید ربانی

1973

خورشید ربانی

غزل 17

اشعار 18

وحشتیں عشق اور مجبوری

کیا کسی خاص امتحان میں ہوں

وہ تغافل شعار کیا جانے

عشق تو حسن کی ضرورت ہے

کسی خیال کسی خواب کے لیے خورشیدؔ

دیا دریچے میں رکھا تھا دل جلایا تھا

یہ کون آگ لگانے پہ ہے یہاں مامور

یہ کون شہر کو مقتل بنانے والا ہے

ذرا سی دیر کو اس نے پلٹ کے دیکھا تھا

ذرا سی بات کا چرچا کہاں کہاں ہوا ہے