Mah Laqa Chanda's Photo'

ماہ لقا چندا

1768 - 1824 | حیدر آباد, ہندوستان

ماہ لقا چندا

غزل 13

اشعار 14

گل کے ہونے کی توقع پہ جیے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ

مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالم

کھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کو

  • شیئر کیجیے

تیر و تلوار سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگہ

سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں

بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 6

دیوان مہ لقابائی چندا

اردو کا کلاسیکی ادب

 

گلزار ماہ لقا

 

1906

گلزار ماہ لقا

 

1906

حیات ماہ لقا چندا

 

 

مہ لقا

مہ لقا بائی چندا کی زندگی اور اس کا کلام

1959

ماہ لقا: حالات زندگی مع دیوان

 

1998

 

تصویری شاعری 3

ہم جو شب کو ناگہاں اس شوخ کے پالے پڑے دل تو جاتا ہی رہا اب جان کے لالے پڑے

گر مرے دل کو چرایا نہیں تو نے ظالم کھول دے بند ہتھیلی کو دکھا ہاتھوں کو

 

آڈیو 12

بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے

تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

دل میں میرے پھر خیال آتا ہے آج

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

  • امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ ہم عصر
  • شیر محمد خاں ایمان شیر محمد خاں ایمان استاد

"حیدر آباد" کے مزید شعرا

  • جلیل مانک پوری جلیل مانک پوری
  • امیر مینائی امیر مینائی
  • شاذ تمکنت شاذ تمکنت
  • ولی عزلت ولی عزلت
  • غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
  • رؤف رحیم رؤف رحیم
  • مخدومؔ محی الدین مخدومؔ محی الدین
  • شفیق فاطمہ شعریٰ شفیق فاطمہ شعریٰ
  • مصحف اقبال توصیفی مصحف اقبال توصیفی
  • رؤف خیر رؤف خیر