Majid-ul-Baqri's Photo'

ماجد الباقری

1928 - 1995

ماجد الباقری

غزل 13

نظم 1

 

اشعار 10

بیس برس سے اک تارے پر من کی جوت جگاتا ہوں

دیوالی کی رات کو تو بھی کوئی دیا جلایا کر

بات کرنا ہے کرو سامنے اتراؤ نہیں

جو نہیں جانتے اس بات کو سمجھاؤ نہیں

قریب دیکھ کے اس کو یہ بات کس سے کہوں

خیال دل میں جو آیا گناہ جیسا تھا

مجھی سے پوچھ رہا تھا مرا پتا کوئی

بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

ہونٹ کی سرخی جھانک اٹھتی ہے شیشے کے پیمانوں سے

مٹی کے برتن میں پانی پی کر پیاس بجھایا کر

کتاب 2

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے