Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Maryam Gazala's Photo'

مریم غزالہ

1939 | دوسرا, انڈیا

مریم غزالہ کے اشعار

جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر

دائرہ اٹھتی ہوئی لہروں کا ہم دیکھا کئے

جب بھی میں نے کھول کر دیکھی ہے یادوں کی کتاب

یوں ہی صفحوں پر تڑپتے مل گئے کچھ واقعات

ہم تو سمجھے تھے ہمیں پہچانتا کوئی نہیں

اپنی بربادی تو گھر گھر کی کہانی ہو گئی

کل نہ جانے شہر میں کس بات کا جلسہ ہوا

آج سارے شہر کا نقشہ ہے کچھ بدلا ہوا

ہر قدم کو سوچ کر رکھیے گا اب

حادثہ ہے راہ میں چلتا ہوا

در و دیوار پہ پرچھائیاں آتی تھیں نظر

بات کرنے کو بھی ترسی ہوں سحر ہونے تک

Recitation

بولیے