noImage

مغیث الدین فریدی

1926

غزل 15

اشعار 6

اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا

کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

ہے فریدیؔ عجب رنگ بزم جہاں مٹ رہا ہے یہاں فرق سود و زیاں

نور کی بھیک تاروں سے لینے لگا آفتاب اپنی اک اک کرن بیچ کر

تری اداؤں کی سادگی میں کسی کو محسوس بھی نہ ہوگا

ابھی قیامت کا اک کرشمہ حیا کے دامن میں پل رہا ہے

کتاب 7

انتخاب غزلیات حافظ مع فرہنگ

 

1975

انتخاب مثنویات اردو

 

1981

انتخاب قصائد اردو

 

1964

کفر تمنا

 

1987

منتخب ادبی خطوط

 

 

شفق

جلد۔025

1953

کتاب نما

مغیث الدین فریدی: شخصیت اور ادبی خدمات

1994