noImage

مغیث الدین فریدی

1926 | دلی, انڈیا

مغیث الدین فریدی

غزل 15

اشعار 6

اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا

کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

صرف الفاظ پہ موقوف نہیں لطف سخن

آنکھ خاموش اگر ہے تو زباں کچھ بھی نہیں

  • شیئر کیجیے

تری اداؤں کی سادگی میں کسی کو محسوس بھی نہ ہوگا

ابھی قیامت کا اک کرشمہ حیا کے دامن میں پل رہا ہے

اب کسی درد کا شکوہ نہ کسی غم کا گلا

میری ہستی نے بڑی دیر میں پایا ہے مجھے

ہے فریدیؔ عجب رنگ بزم جہاں مٹ رہا ہے یہاں فرق سود و زیاں

نور کی بھیک تاروں سے لینے لگا آفتاب اپنی اک اک کرن بیچ کر

کتاب 10

 

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے