Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mustafa Rahi's Photo'

مصطفیٰ راہی

1931 - 1986 | راول پنڈی, پاکستان

مصطفیٰ راہی کے اشعار

291
Favorite

باعتبار

دل دھڑکتا ہے ستاروں کا یہاں

اف یہ دنیا کس قدر تاریک ہے

دیکھیے کب تک یہی حالت یہی عالم رہے

دل کی ہر دھڑکن یہ کہتی ہے کہ وہ آنے کو ہیں

اللہ تیرے ہاتھ ہے خودداریوں کی لاج

دانستہ حادثات سے ٹکرا گیا ہوں میں

آدمیت کا ذکر کیا ناصح

آدمی اب کہاں ہیں سائے ہیں

نہ سمجھا کوئی اسرار محبت

جو سمجھا کچھ دل نادان سمجھا

خواہش سکون کی ہے نہ اب اضطراب کی

اللہ رے ضدیں دل خانہ خراب کی

اے دل نہ کر قبول مرے دل نہ کر قبول

منزل شکست شوق ہے منزل نہ کر قبول

بے خودی میں شان خودداری بھی ہے

خواب میں احساس بیداری بھی ہے

وہ بھی آنے کو ہیں قیامت بھی

دیکھیے کون پیشتر آئے

کیا خبر تھی اس قدر پر کیف نغمے ہیں نہاں

زندگی کو ایک ساز بے صدا سمجھا تھا میں

شاید ہی راس آئے مجھے عیش مرگ بھی

راہیؔ غم حیات کا مارا ہوا ہوں میں

لاکھ بھاگے زد پہ جب آ جائے گی

زندگی تیری قضا کھا جائے گی

خودداریوں پہ عشق کی الزام آ گیا

کیوں بے خودی میں لب پہ ترا نام آ گیا

دھوکا تھا جس پہ موج نسیم بہار کا

اک سیل بے پناہ تھا برق و شرار کا

Recitation

Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

بولیے