Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Naseer Turabi's Photo'

نصیر ترابی

1945 - 2021 | کراچی, پاکستان

پاکستانی شاعر، سیریل ’ہم سفر‘ کے ٹائٹل گیت ’وہ ہم سفر تھا‘ سے مشہور

پاکستانی شاعر، سیریل ’ہم سفر‘ کے ٹائٹل گیت ’وہ ہم سفر تھا‘ سے مشہور

نصیر ترابی کا تعارف

تخلص : 'نصیر'

اصلی نام : نصیر ترابی

پیدائش : 15 Jun 1945 | حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 10 Jan 2021 | کراچی, سندھ

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

شناخت: نامور شاعر، ماہرِ لسانیات، لغت نویس اور معروف غزل "وہ ہم سفر تھا" کے تخلیق کار

نصیر ترابی 15 جون 1945ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق ممتاز خطیب علامہ رشید ترابی کے علمی گھرانے سے تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور 1968ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے (تعلقاتِ عامہ) کی ڈگری حاصل کی۔

نصیر ترابی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انشورنس کے شعبے سے کیا، لیکن ان کی اصل پہچان ان کا علمی و ادبی کام بنا۔ 1962ء میں شاعری کا آغاز کرنے والے نصیر ترابی نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو غزل کو نئی وسعتیں عطا کیں۔

نصیر ترابی کو عوامی سطح پر غیر معمولی شہرت اس وقت ملی جب پاکستانی ڈراما سیریل 'ہم سفر' کا ٹائٹل گیت “وہ ہم سفر تھا” پیش کیا گیا۔ اس گیت کے اشعار نے ناظرین اور سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا اور یوں ایک سنجیدہ شاعر وسیع تر عوامی حلقے میں پہچانا جانے لگا، حالاں کہ ان کی اصل پہچان ہمیشہ ان کی غزل رہی۔

نصیر ترابی کی علمی خدمات محض شاعری تک محدود نہ تھیں بلکہ وہ لسانیات اور لغت نویسی کے بھی ماہر تھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’عکسِ فریادی‘ اور ’لاریب‘ (نعت و منقبت) شامل ہیں، جبکہ کتاب ’لاریب‘ پر انہیں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے علامہ اقبال ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کی کتاب ’شعریات‘ شعر و سخن کے مباحث اور املا کی درستی کے حوالے سے ایک اہم دستاویز مانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’لغت العوام‘ مرتب کر کے اردو لسانیات کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کیا۔ ان کا اسلوب روایت اور جدت کا ایک حسین امتزاج تھا، جس میں زبان و بیان کی صحت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

وفات: نصیر ترابی کا انتقال 10 جنوری 2021ء کو کراچی میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے