Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Paraveen Rai's Photo'

پروین رائے

1995 | غازی پور, انڈیا

پروین رائے کے اشعار

177
Favorite

باعتبار

پوچھ کر کون دل دکھاتا ہے

حادثے کب بتا کے ہوتے ہیں

اس سے ہی تو چلتے ہیں کاروبار گلشن کے

وہ ہی رات رانی ہے وہ ہی گل ہزارہ ہے

میرے اشعار چرانے والو

کیا مرا درد چرا سکتے ہو

خاموشی میں رہنے والے لوگوں کو

سناٹے کی گونج سنائی دیتی ہے

اس سے پہلے کے چھین لیتے لوگ

ہم نے خوشیاں ہی دان میں دے دیں

کوئی آیا نہیں منانے ہمیں

ہم نے ناراض ہو کے دیکھ لیا

مجھ کو تنہائیوں نے مارا ہے

بھیڑ دیکھو مرے جنازے کی

کہاں پر کھو گئی اب ڈھونڈھتا ہوں

بھروسہ نام کی چابی ملی تھی

پہلے زخموں سے ہم نوازے گئے

پھر دلاسہ دیا گیا ہم کو

ان کے نخرے ہیں قافیے جیسے

ان کا غصہ ردیف جیسا ہے

جوہری کیوں نہیں پرکھ پایا

گولکنڈہ کی کھان تھے ہم تو

ہم نے پانی کہا تھا اور ان نے

پیاس دے دی ہے پیاس کے بدلے

کون بھلا اپنی مرضی سے بچھڑا تھا

دونوں کی اپنی اپنی مجبوری تھی

ادھورے رہ گئے ہم اس لئے بھی

کوئی ہم کو مکمل چاہیے تھا

تمہاری یاد کی بنجر زمیں پر

سخن کے پھول بوئے جا رہے ہیں

کچھ تو کہیے ہمارے بارے میں

کون ہیں ہم ہمیں پتہ تو چلے

آپ کو دیوتا سمجھتا تھا

آپ تو خوب دیوتا نکلے

یہی کل زخم میں تبدیل ہوں گے

بھرم جو عشق کے پالے گئے ہیں

ربط ٹوٹا تو یوں لگا جیسے

پنکھ نوچے گئے ہوں بلبل کے

آپ اپنی ہی میں قسمت سے چھلا جاتا ہوں

کیا سزا مجھ کو ملی ہے یہ بھلے ہونے کی

یوں سمجھئے غزل مکمل ہے

جب محبت بغل میں بیٹھی ہو

Recitation

بولیے