گلشن پر شاعری

تخلیقی زبان ترسیل اور بیان کی سیدھی منطق کے برعکس ہوتی ہے ۔ اس میں کچھ علامتیں ہیں کچھ استعارے ہیں جن کے پیچھے واقعات ، تصورات اور معانی کا پورا ایک سلسلہ ہوتا ہے ۔ چمن ،صیاد ، گلشن ،نشیمن ، قفس جیسی لفظیات اسی قبیل کی ہیں ۔ یہاں جو شاعری ہم پیش کر رہے ہیں وہ چمن کی ان جہتوں کو سامنے لاتی ہے جو عام طور سے ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتی ہیں ۔

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

فیض احمد فیض

گلشن کی فقط پھولوں سے نہیں کانٹوں سے بھی زینت ہوتی ہے

جینے کے لئے اس دنیا میں غم کی بھی ضرورت ہوتی ہے

صبا افغانی

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے

ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

احمد فراز

کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن

جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن

فنا نظامی کانپوری

کیا اسی واسطے سینچا تھا لہو سے اپنے

جب سنور جائے چمن آگ لگا دی جائے

علی احمد جلیلی

وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو دیکھو

کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں

احمد مشتاق

میں اس گلشن کا بلبل ہوں بہار آنے نہیں پاتی

کہ صیاد آن کر میرا گلستاں مول لیتے ہیں

حیدر علی آتش

گلشن میں نہ ہم ہوں گے تو پھر سوگ ہمارا

گل پیرہن و غنچہ دہن کرتے رہیں گے

ابو المجاہد زاہد

ہم کو اس کی کیا خبر گلشن کا گلشن جل گیا

ہم تو اپنا صرف اپنا آشیاں دیکھا کیے

حسن نجمی سکندرپوری