دعا پر شاعری

اردو شاعری کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس میں بہت سی ایسی لفظیات جو خالص مذہبی تناظر سے جڑی ہوئی تھیں نئے رنگ اور روپ کے ساتھ برتی گئی ہیں اور اس برتاؤ میں ان کے سابقہ تناظر کی سنجیدگی کی جگہ شگفتگی ، کھلے پن ، اور ذرا سی بذلہ سنجی نے لے لی ہے ۔ دعا کا لفظ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے ۔ آپ اس انتخاب میں دیکھیں گے کہ کس طرح ایک عاشق معشوق کے وصال کی دعائیں کرتا ہے ، اس کی دعائیں کس طرح بے اثر ہیں ۔ کبھی وہ عشق سے تنگ آکر ترک عشق کی دعا کرتا ہے لیکن جب دل ہی نہ چاہے تو دعا میں اثر کہاں ۔ اس طرح کی اور بہت سی پرلطف صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔

میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی

ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے

احمد فراز

اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دے

ہاں اپنی برائی کو پرکھنے کا ہنر دے

خلیل تنویر

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

بشیر بدر

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

علامہ اقبال

آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ

کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم

احمد ندیم قاسمی

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں

تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

جاذب قریشی

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

منور رانا

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

افتخار عارف

مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

امیر مینائی

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے

ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

منور رانا

مجھے زندگی کی دعا دینے والے

ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

گوپال متل

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

جلیل مانک پوری

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے

اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے

بشیر بدر

میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھی

کوئی آہٹ نہ ہو در پر مرے جب تو آئے

بشیر بدر

ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل

دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے

داغؔ دہلوی

کسی نے چوم کے آنکھوں کو یہ دعا دی تھی

زمین تیری خدا موتیوں سے نم کر دے

بشیر بدر

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی

شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

Once upon a time for death I did pray

I am ashamed of life my friend to this very day

نامعلوم

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے

نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

he who is stricken by love, remembers naught at all

no cure will come to mind, nor prayer will recall

he who is stricken by love, remembers naught at all

no cure will come to mind, nor prayer will recall

شیخ ابراہیم ذوقؔ

وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے

تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو

بشیر بدر

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

حفیظ جالندھری

تم سلامت رہو قیامت تک

اور قیامت کبھی نہ آئے شادؔ

شاد عارفی

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

جاں نثاراختر

دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحل

اپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں

محمد علی ساحل

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

to be parted from my dearest I will pray now hence

as after all prayers bear enmity with consequence

to be parted from my dearest I will pray now hence

as after all prayers bear enmity with consequence

مومن خاں مومن

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں

سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

افتخار عارف

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر

میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

نظیر باقری

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی

دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

الطاف حسین حالی

نہ جانے کون سی منزل پہ عشق آ پہونچا

دعا بھی کام نہ آئے کوئی دوا نہ لگے

عزیز الرحمن شہید فتح پوری

دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں

وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے

عبید اللہ علیم

باقی ہی کیا رہا ہے تجھے مانگنے کے بعد

بس اک دعا میں چھوٹ گئے ہر دعا سے ہم

عامر عثمانی

سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست

لیکن خدا کرے، وہ ترا جلوہ گاہ ہو

praises of paradise we hear are all true, I agree

but I wish that God ordains, your parlour that it be

praises of paradise we hear are all true, I agree

but I wish that God ordains, your parlour that it be

مرزا غالب

میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت

جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

افتخار عارف

یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے

سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

حیات لکھنوی

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں

عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

افتخار عارف

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں

عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

افتخار عارف

اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں

میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

حفیظ بنارسی

غم دل اب کسی کے بس کا نہیں

کیا دوا کیا دعا کرے کوئی

ہادی مچھلی شہری
  • موضوعات: دل
    اور 1 مزید

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

افتخار عارف

ہائے کوئی دوا کرو ہائے کوئی دعا کرو

ہائے جگر میں درد ہے ہائے جگر کو کیا کروں

حفیظ جالندھری

ابھی دلوں کی طنابوں میں سختیاں ہیں بہت

ابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا

آفتاب حسین

اک تیری تمنا نے کچھ ایسا نوازا ہے

مانگی ہی نہیں جاتی اب کوئی دعا ہم سے

اعجاز کم راوی

تکمیل آرزو سے بھی ہوتا ہے غم کبھی

ایسی دعا نہ مانگ جسے بد دعا کہیں

ابو محمد سحر

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

ساغر صدیقی

مرے لیے نہ رک سکے تو کیا ہوا

جہاں کہیں ٹھہر گئے ہو خوش رہو

فاضل جمیلی

اس مرض کو مرض عشق کہا کرتے ہیں

نہ دوا ہوتی ہے جس کی نہ دعا ہوتی ہے

شفیق رضوی

موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی

لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

یگانہ چنگیزی

زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دے

نشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دے

پروین کمار اشک

کون دیتا ہے محبت کو پرستش کا مقام

تم یہ انصاف سے سوچو تو دعا دو ہم کو

احسان دانش

خداوندا کرم کر فضل کر احوال پر میرے

نظر کر آپ پر مت کر نظر افعال پر میرے

آبرو شاہ مبارک

دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے

کہ مجھے شکوۂ کوتاہیٔ داماں ہو جائے

بیدم شاہ وارثی