بشیر بدر

  • 1935
  • بھوپال

مقبول شاعر ، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ اور پدم شری

مقبول شاعر ، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ اور پدم شری

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا0
0 ا ,اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے_گا3
0 ا ,آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا3
0 ا ,بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے_گا2
0 ا ,پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا0
0 ا ,جب تک نگار_داشت کا سینہ دکھا نہ تھا3
0 ا ,ریت بھری ہے ان آنکھوں میں آنسو سے تم دھو لینا0
0 ا ,سر جھکاؤ_گے تو پتھر دیوتا ہو جائے_گا2
0 ا ,شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا0
0 ا ,شعلۂ_گل گلاب شعلہ کیا0
0 ا ,کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا3
0 ا ,مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا0
0 ا ,محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا3
0 ا ,میرے سینے پر وہ سر رکھے ہوئے سوتا رہا0
0 ا ,میں کب تنہا ہوا تھا یاد ہوگا3
0 ت ,خاندانی رشتوں میں اکثر رقابت ہے بہت0
0 ح ,نظر سے گفتگو خاموش لب تمہاری طرح0
0 مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو0
0 ن ,ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں3
0 ن ,اداس آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں0
0 ن ,پہلا سا وہ زور نہیں ہے میرے دکھ کی صداؤں میں2
0 ن ,تاروں بھری پلکوں کی برسائی ہوئی غزلیں0
0 ن ,خوشبو کی طرح آیا وہ تیز ہواؤں میں2
0 ن ,دل میں اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں میں0
0 ن ,ذروں میں کنمناتی ہوئی کائنات ہوں0
0 ن ,سر_راہ کچھ بھی کہا نہیں کبھی اس کے گھر میں گیا نہیں2
0 ن ,سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں3
0 ن ,سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں2
0 ن ,شام آنکھوں میں آنکھ پانی میں0
0 ن ,کوئی لشکر کہ دھڑکتے ہوئے غم آتے ہیں0
0 ن ,لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں2
0 ن ,یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں0
0 و ,اداس رات ہے کوئی تو خواب دے جاؤ0
0 و ,اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو0
0 و ,جب سحر چپ ہو ہنسا لو ہم کو0
0 و ,چمک رہی ہے پروں میں اڑان کی خوشبو2
0 و ,کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو2
0 و ,وہ اپنے گھر چلا گیا افسوس مت کرو0
0 و ,وہ صورت گرد_غم میں چھپ گئی ہو0
0 و ,یوں_ہی بے_سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو2
0 ے ,اب تو انگاروں کے لب چوم کے سو جائیں گے0
0 ے ,اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے0
0 ے ,اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے0
0 ی ,آہن میں ڈھلتی جائے_گی اکیسویں صدی0
0 ی ,بڑے تاجروں کی ستائی ہوئی0
0 ی ,بے_تحاشا سی لاابالی ہنسی0
0 ے ,پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے2
0 ے ,پچھلی رات کی نرم چاندنی شبنم کی خنکی سے رچا ہے0
0 ے ,پھول برسے کہیں شبنم کہیں گوہر برسے3
0 ی ,پیار کی نئی دستک دل پہ پھر سنائی دی2
0 ے ,جب رات کی تنہائی دل بن کے دھڑکتی ہے0
0 ی ,چائے کی پیالی میں نیلی ٹیبلٹ گھولی3
0 ے ,خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے2
0 ے ,خون پتوں پہ جما ہو جیسے0
0 ے ,دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے3
0 ے ,سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے3
0 ی ,سنسان راستوں سے سواری نہ آئے_گی3
0 ے ,سنوار نوک_پلک ابرووں میں خم کر دے2
0 ے ,سوئے کہاں تھے آنکھوں نے تکیے بھگوئے تھے0
0 ی ,عظمتیں سب تری خدائی کی2
0 ے ,غزلوں کا ہنر اپنی آنکھوں کو سکھائیں_گے2
0 ے ,فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے0
0 ے ,کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے2
0 ے ,کسی کی یاد میں پلکیں ذرا بھگو لیتے3
0 ی ,کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہوگی3
0 ی ,کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی3
0 ے ,کون آیا راستے آئینہ_خانے ہو گئے3
0 ے ,گھر سے نکلے اگر ہم بہک جائیں_گے2
0 ے ,مری زباں پہ نئے ذائقوں کے پھل لکھ دے0
0 ی ,مری زندگی بھی مری نہیں یہ ہزار خانوں میں بٹ گئی2
0 ے ,مری غزل کی طرح اس کی بھی حکومت ہے2
0 ے ,مری نظر میں خاک تیرے آئنے پہ گرد ہے0
0 ے ,مسافر کے رستے بدلتے رہے2
0 ے ,میری آنکھوں میں ترے پیار کا آنسو آئے0
0 ے ,میرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے2
0 ے ,میں تم کو بھول بھی سکتا ہوں اس جہاں کے لئے0
0 ی ,نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی0
0 ے ,ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے2
0 ے ,ہمارے پاس تو آؤ بڑا اندھیرا ہے0
0 ی ,ہنسی معصوم سی بچوں کی کاپی میں عبارت سی0
0 ے ,ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے2
0 ے ,ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے0
0 ے ,وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے3
0 ے ,وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں_گے3
0 ے ,وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے3
0 ے ,یہ چراغ بے_نظر ہے یہ ستارہ بے_زباں ہے0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 86 of 86 items