سادگی پر اشعار
سادگی زندگی گزارنے کے
عمل میں اختیار کیا جانے والا ایک رویہ ہے ۔ جس کے تحت انسان زندگی کے فطری پن کو باقی رکھتا ہے اور اس کی غیر ضروری آسائشوں، رونقوں اور چکاچوند کا شکار نہیں ہوتا ۔ شعری اظہارمیں سادگی کے اس تصور کے علاوہ اس کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ یہ سادگی محبوب کی ایک صفت کے طور پر بھی آئی ہے کہ محبوب بڑے سے بڑا ظلم بڑی معصومیت اور سادگی کے ساتھ کر جاتا ہے اور خود سے بھی اس کا ذرا احساس نہیں ہوتا ہے ۔ سادگی کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
اے خدا، محبوب کے اس بھولے پن اور سادگی پر بھلا کون اپنی جان نہ وار دے؟
وہ مجھ سے لڑنے کو تیار ہیں حالانکہ ان کے ہاتھ میں کوئی تلوار یا ہتھیار تک نہیں ہے۔
شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔
-
موضوعات : ادااور 1 مزید
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہمیں ان سے محبت نبھانے اور وفاداری کی امید ہے،
جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کا مطلب کیا ہے۔
شاعر اپنی سادگی اور خوش فہمی پر طنز کر رہا ہے کہ ہم ایسے شخص سے وفا کی توقع کر رہے ہیں جو وفا کے مفہوم سے ہی ناواقف ہے۔ یہ عاشق کی مجبوری اور محبوب کی لاپرواہی یا انجان پن کا خوبصورت اظہار ہے۔
-
موضوعات : امیداور 2 مزید
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
میں تمہارے عشق کی آخری حد تک پہنچنا چاہتا ہوں۔
ذرا میری سادگی دیکھو کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔
اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 4 مزید
تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر
وفا تجھ سے اے بے وفا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر
میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا
مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے
کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا
-
موضوع : صورت
یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے
بزم میں گویا مری جانب اشارا کر دیا
-
موضوع : آنکھ
حاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھے
زیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے
-
موضوع : رخسار
ہے جوانی خود جوانی کا سنگار
سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے
-
موضوع : جوانی
وہ سادگی میں بھی ہے عجب دل کشی لئے
اس واسطے ہم اس کی تمنا میں جی لئے
بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو
کوئی کمبخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے