Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سادگی پر اشعار

سادگی زندگی گزارنے کے

عمل میں اختیار کیا جانے والا ایک رویہ ہے ۔ جس کے تحت انسان زندگی کے فطری پن کو باقی رکھتا ہے اور اس کی غیر ضروری آسائشوں، رونقوں اور چکاچوند کا شکار نہیں ہوتا ۔ شعری اظہارمیں سادگی کے اس تصور کے علاوہ اس کی اور بھی کئی جہتیں ہیں ۔ یہ سادگی محبوب کی ایک صفت کے طور پر بھی آئی ہے کہ محبوب بڑے سے بڑا ظلم بڑی معصومیت اور سادگی کے ساتھ کر جاتا ہے اور خود سے بھی اس کا ذرا احساس نہیں ہوتا ہے ۔ سادگی کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے ۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

اے خدا، محبوب کے اس بھولے پن اور سادگی پر بھلا کون اپنی جان نہ وار دے؟

وہ مجھ سے لڑنے کو تیار ہیں حالانکہ ان کے ہاتھ میں کوئی تلوار یا ہتھیار تک نہیں ہے۔

شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔

مرزا غالب

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

ہمیں ان سے محبت نبھانے اور وفاداری کی امید ہے،

جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کا مطلب کیا ہے۔

شاعر اپنی سادگی اور خوش فہمی پر طنز کر رہا ہے کہ ہم ایسے شخص سے وفا کی توقع کر رہے ہیں جو وفا کے مفہوم سے ہی ناواقف ہے۔ یہ عاشق کی مجبوری اور محبوب کی لاپرواہی یا انجان پن کا خوبصورت اظہار ہے۔

مرزا غالب

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

میں تمہارے عشق کی آخری حد تک پہنچنا چاہتا ہوں۔

ذرا میری سادگی دیکھو کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔

اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔

علامہ اقبال

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں

ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

افضل خان

تمہارا حسن آرائش تمہاری سادگی زیور

تمہیں کوئی ضرورت ہی نہیں بننے سنورنے کی

اثر لکھنوی

مجھے زندگی کی دعا دینے والے

ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

گوپال متل

وفا تجھ سے اے بے وفا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

حسرتؔ موہانی

اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر

میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا

امیر مینائی

مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی

یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

قتیل شفائی

بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے

کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا

آغا شاعر قزلباش

یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے

بزم میں گویا مری جانب اشارا کر دیا

فانی بدایونی

حاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھے

زیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے

حیدر علی آتش

ہے جوانی خود جوانی کا سنگار

سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے

امیر مینائی

وہ سادگی میں بھی ہے عجب دل کشی لئے

اس واسطے ہم اس کی تمنا میں جی لئے

جنید حزیں لاری

بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو

کوئی کمبخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے

حفیظ جالندھری
بولیے