Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وعدہ پر اشعار

وعدہ اگر وفا ہوجائے

تو پھر وہ وعدہ ہی کہاں ۔ معشوق ہمیشہ وعدہ خلاف ہوتا ہے ، دھوکے باز ہوتا ہے ۔ وہ عاشق سے وعدہ کرتا ہے لیکن وفا نہیں کرتا ۔ یہ وعدے ہی عاشق کے جینے کا بہانہ ہوتے ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب میں وعدہ کرنے اور اسے توڑنے کی دلچسپ صورتوں سے آپ گزریں گے ۔

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

ہم تمہارے وعدے کے سہارے جیتے رہے، مگر سمجھ لو وہ وعدہ جھوٹ نکلا۔

اگر واقعی اس وعدے پر ہمیں اعتبار ہوتا تو ہم خوشی ہی خوشی مر جاتے۔

شاعر محبوب کے وعدے کو زندگی کا سہارا بتاتا ہے مگر آخر میں اسے جھوٹ قرار دیتا ہے۔ یہاں “خوشی سے مر جانا” شدتِ مسرت اور نجات کے احساس کا استعارہ ہے۔ یعنی سچا یقین ملتا تو دل پر ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ جان بھی آسانی سے نکل جاتی۔ اس شعر کی اصل چبھن امید، اعتماد اور فریب کے بیچ ٹوٹتے ہوئے دل کی ہے۔

مرزا غالب

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

ہمیں ان سے محبت نبھانے اور وفاداری کی امید ہے،

جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کا مطلب کیا ہے۔

شاعر اپنی سادگی اور خوش فہمی پر طنز کر رہا ہے کہ ہم ایسے شخص سے وفا کی توقع کر رہے ہیں جو وفا کے مفہوم سے ہی ناواقف ہے۔ یہ عاشق کی مجبوری اور محبوب کی لاپرواہی یا انجان پن کا خوبصورت اظہار ہے۔

مرزا غالب

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

تم کہا کرتے تھے کہ ہم وفا کریں گے، ساتھ نبھائیں گے اور تمہاری بات مانیں گے۔

تمہیں یاد ہے نا کہ یہ باتیں کس کی زبان سے نکلی تھیں؟

اس شعر میں محبوب کے پرانے دعووں کو یاد دلا کر اس کی موجودہ بےوفائی پر گرفت کی گئی ہے۔ پہلے مصرع میں وفا، نباہ اور اطاعت کے وعدے ہیں اور دوسرے میں ایک طنزیہ/شکوہ آمیز سوال۔ “کس کا تھا” کہہ کر شاعر وعدوں کی ملکیت بھی جتا دیتا ہے اور ان سے پھرنے کی تلخی بھی۔

داغؔ دہلوی

نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید

مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا

نہ تم نے کوئی وعدہ کیا، نہ کوئی یقین دلایا، نہ امید باقی چھوڑی۔

پھر بھی مجھے تمہارا انتظار ہی کرتے رہنا تھا۔

اس شعر میں عاشق کی بےبسی اور وابستگی نمایاں ہے: محبوب کی طرف سے نہ وعدہ ہے نہ یقین، امید بھی نہیں، پھر بھی دل کی مجبوری اسے انتظار پر قائم رکھتی ہے۔ پہلی مصرع میں نفی کی تکرار محرومی کو گہرا کرتی ہے، اور دوسری میں “کرنا تھا” انتظار کو تقدیر جیسا بنا دیتا ہے۔

فراق گورکھپوری

ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے

فنا نظامی کانپوری

عادتاً تم نے کر دیے وعدے

عادتاً ہم نے اعتبار کیا

گلزار

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

میں نے عجب حرکت کی کہ تمہارے وعدے پر یقین کر لیا۔

پوری رات میں ایسے بیٹھا رہا جیسے قیامت آنے والی ہو۔

شاعر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ محبوب کے وعدے پر اعتبار کرنا ہی غضب تھا۔ رات بھر کا انتظار اتنا طویل اور کربناک محسوس ہوتا ہے کہ اسے “قیامت” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہاں قیامت ٹوٹے ہوئے وعدے سے پیدا ہونے والی بے چینی اور دل کی تباہی کی علامت ہے۔

داغؔ دہلوی

تیری مجبوریاں درست مگر

تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

ناصر کاظمی

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہم دونوں کے بیچ جو باہمی ٹھہراؤ اور طے شدہ بات تھی، کیا تمہیں یاد ہے یا نہیں؟

یعنی وفا سے وعدہ پورا کرنے کی بات، کیا وہی وعدہ تمہیں یاد ہے یا نہیں؟

شاعر محبوب سے پوچھتا ہے کہ جو رشتہ اور باہمی قرار کبھی تھا، کیا اس کی یاد اب بھی باقی ہے۔ “قرار” میں تعلق کی پختگی اور باہمی رضا شامل ہے، اور “وعدہ نباہ” وفاداری کی قسم ہے۔ “یاد ہو کہ نہ یاد ہو” کی تکرار شکایت بھی ہے اور بےبسی بھی، جیسے بھول جانا ہی بےوفائی بن گیا ہو۔ اس طرح شعر یاد اور وفا کو محبت کی کسوٹی بنا دیتا ہے۔

مومن خاں مومن

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

عبرت مچھلی شہری

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی

رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

جون ایلیا

ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن

اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے

پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

ناصر کاظمی

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

دل داری یا لحاظ میں آ کر میں نے آپ کی بات مان لی۔

مگر جھوٹی قسم کھا کر آپ نے اپنا ایمان، یعنی اعتبار، کھو دیا۔

شاعر کہتا ہے کہ اس نے بات قائل ہو کر نہیں بلکہ خاطر اور لحاظ کی وجہ سے مان لی۔ محبوب نے سچ ثابت کرنے کو قسم کھائی، مگر وہ قسم جھوٹی نکلی۔ یوں بات منوانا تو ہو گیا مگر سچائی اور دیانت کا سرمایہ جاتا رہا۔ یہاں “ایمان” سے مراد اخلاقی ساکھ اور اعتبار ہے۔

داغؔ دہلوی

ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا

جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا

جوش ملیح آبادی

صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائے

جھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہے

قیصر حیدری دہلوی

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

جلالؔ مانکپوری

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

چراغ حسن حسرت

وہ امید کیا جس کی ہو انتہا

وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا

الطاف حسین حالی

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا

آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا

شہریار

کس منہ سے کہہ رہے ہو ہمیں کچھ غرض نہیں

کس منہ سے تم نے وعدہ کیا تھا نباہ کا

حفیظ جالندھری

پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا

پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا

امیر مینائی

میں بھی حیران ہوں اے داغؔ کہ یہ بات ہے کیا

وعدہ وہ کرتے ہیں آتا ہے تبسم مجھ کو

میں بھی، اے داغؔ، اس بات پر حیرت میں ہوں کہ یہ کیسا معاملہ ہے۔

وہ وعدے کرتے ہیں، مگر میرے دل میں امید کے بجائے مسکراہٹ آ جاتی ہے۔

شاعر اپنے ہی ردِعمل پر حیران ہے کہ محبوب کے وعدوں سے خوشی یا یقین نہیں پیدا ہوتا بلکہ تبسم آ جاتا ہے۔ یہاں وعدہ محض زبانی دلاسے اور بار بار ٹوٹنے والی امید کی علامت ہے۔ جذبے کی تہہ میں تھکن، بےیقینی اور ہلکا سا طنز ہے کہ اب وعدہ سن کر اعتبار نہیں رہتا۔

داغؔ دہلوی

میں اس کے وعدے کا اب بھی یقین کرتا ہوں

ہزار بار جسے آزما لیا میں نے

مخمور سعیدی

تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کو

میں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا

انور شعور

وعدہ نہیں پیام نہیں گفتگو نہیں

حیرت ہے اے خدا مجھے کیوں انتظار ہے

لالہ مادھو رام جوہر

اور کچھ دیر ستارو ٹھہرو

اس کا وعدہ ہے ضرور آئے گا

احسان دانش کاندھلوی

پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے

جھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والے

آرزو لکھنوی

آپ تو منہ پھیر کر کہتے ہیں آنے کے لیے

وصل کا وعدہ ذرا آنکھیں ملا کر کیجیے

لالہ مادھو رام جوہر

برسوں ہوئے نہ تم نے کیا بھول کر بھی یاد

وعدے کی طرح ہم بھی فراموش ہو گئے

جلیل مانک پوری

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا

تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا

اگر کوئی تم سے بھی تمہاری طرح جھوٹے وعدے کرے،

تو انصاف سے بتاؤ کیا پھر بھی تمہیں اس پر اعتبار آئے گا؟

شاعر محبوب کو اس کے اپنے رویّے کا آئینہ دکھاتا ہے کہ جھوٹے وعدے کرنا آسان ہے مگر سہنا مشکل۔ وہ منصفی کا مطالبہ کر کے محبوب کی دو رُخی کو بے نقاب کرتا ہے: جو حرکت تم کرتے ہو، وہی کوئی تمہارے ساتھ کرے تو تمہیں قبول نہیں۔ اس میں دکھ، شکوہ اور انصاف کی طلب ایک ساتھ ہے۔

داغؔ دہلوی

آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے

آج ہماری عمر بڑھا دی

کیف بھوپالی

اس کے وعدوں سے اتنا تو ثابت ہوا اس کو تھوڑا سا پاس تعلق تو ہے

یہ الگ بات ہے وہ ہے وعدہ شکن یہ بھی کچھ کم نہیں اس نے وعدے کیے

عامر عثمانی

وہ پھر وعدہ ملنے کا کرتے ہیں یعنی

ابھی کچھ دنوں ہم کو جینا پڑے گا

آسی غازی پوری

جھوٹے وعدے بھی نہیں کرتے آپ

کوئی جینے کا سہارا ہی نہیں

جلیل مانک پوری

بھولنے والے کو شاید یاد وعدہ آ گیا

مجھ کو دیکھا مسکرایا خود بہ خود شرما گیا

اثر لکھنوی

دل کبھی لاکھ خوشامد پہ بھی راضی نہ ہوا

کبھی اک جھوٹے ہی وعدے پہ بہلتے دیکھا

جلیل مانک پوری

جھوٹے وعدوں پر تھی اپنی زندگی

اب تو وہ بھی آسرا جاتا رہا

مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے

ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

بیخود دہلوی

وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں

سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں

مفتی صدرالدین آزردہ

مان لیتا ہوں تیرے وعدے کو

بھول جاتا ہوں میں کہ تو ہے وہی

جلیل مانک پوری

صاف کہہ دیجئے وعدہ ہی کیا تھا کس نے

عذر کیا چاہیئے جھوٹوں کے مکرنے کے لیے

صاف بتا دیجیے کہ وعدہ کیا ہی کس نے تھا؟

جو جھوٹے ہوں اُنہیں مکرنے کے لیے کسی عذر کی ضرورت ہی کہاں۔

شاعر محبوب کو دو ٹوک انداز میں گھیرتا ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ اصل میں وعدہ ہوا ہی نہیں تھا۔ دوسرے مصرعے میں طنز ہے کہ جھوٹوں کے لیے بات سے پھر جانا کوئی مسئلہ نہیں، وہ بلا جھجک انکار کر دیتے ہیں۔ یہاں “عذر” بہانے کی اوٹ ہے اور “مکرنا” کردار کی کمزوری کا نشان۔ لہجہ رنج اور تلخی سے بھرپور ہے۔

داغؔ دہلوی

وعدہ جھوٹا کر لیا چلئے تسلی ہو گئی

ہے ذرا سی بات خوش کرنا دل ناشاد کا

چلیے، آپ نے وعدہ جھوٹا ہی کر لیا، مگر مجھے تسلی تو ہو گئی۔

بس اتنی سی بات ہے کہ ایک ناامید دل کو خوش کر دیا جائے۔

شاعر کہتا ہے کہ دل کی ٹھنڈک کے لیے سچا ہونا بھی شرط نہیں؛ جھوٹا وعدہ بھی وقتی سہارا دے دیتا ہے۔ یہاں “دلِ ناشاد” اُس شکستہ دل کی علامت ہے جو ذرا سی توجہ پر سنبھل جاتا ہے۔ لہجے کی ہلکی شوخی کے پیچھے محرومی اور شدید احتیاج چھپی ہوئی ہے۔

داغؔ دہلوی

تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے

اونچی دیوار کے لمبے سائے

باقی صدیقی

ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا

وہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے

اختر شیرانی

وعدہ وہ کر رہے ہیں ذرا لطف دیکھیے

وعدہ یہ کہہ رہا ہے نہ کرنا وفا مجھے

جلیل مانک پوری

بعض وعدے کیے نہیں جاتے

پھر بھی ان کو نبھایا جاتا ہے

انجم خیالی

مجھے ہے اعتبار وعدہ لیکن

تمہیں خود اعتبار آئے نہ آئے

اختر شیرانی

بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا

کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

ابراہیم اشکؔ

کم سنی میں تو حسیں عہد وفا کرتے ہیں

بھول جاتے ہیں مگر سب جو شباب آتا ہے

انوراز
بولیے