وعدہ شاعری

وعدہ اگر وفا ہوجائے تو پھر وہ وعدہ ہی کہاں ۔ معشوق ہمیشہ وعدہ خلاف ہوتا ہے ، دھوکے باز ہوتا ہے ۔ وہ عاشق سے وعدہ کرتا ہے لیکن وفا نہیں کرتا ۔ یہ وعدے ہی عاشق کے جینے کا بہانہ ہوتے ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب میں وعدہ کرنے اور اسے توڑنے کی دلچسپ صورتوں سے آپ گزریں گے ۔

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

داغؔ دہلوی

نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید

مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا

no promise,surety, nor any hope was due

yet I had little choice but to wait for you

فراق گورکھپوری

عادتاً تم نے کر دیے وعدے

عادتاً ہم نے اعتبار کیا

گلزار

ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے

فنا نظامی کانپوری

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

From her I hope for constancy

who knows it not, to my dismay

مرزا غالب

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغؔ دہلوی

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

عبرت مچھلی شہری

ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن

اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی

تیری مجبوریاں درست مگر

تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

ناصر کاظمی

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

the love that 'tween us used to be, you may, may not recall

those promises of constancy, you may, may not recall

مومن خاں مومن

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی

رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

جون ایلیا

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

that your promise made me live, let that not deceive

happily my life I'd give, If I could but believe

مرزا غالب

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

for reasons of formality, I've chosen to believe

you have surely lost your faith when you so deceive

داغؔ دہلوی

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے

پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

ناصر کاظمی

پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا

پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا

امیر مینائی

میں اس کے وعدے کا اب بھی یقین کرتا ہوں

ہزار بار جسے آزما لیا میں نے

To this day her promises I do still believe

who a thousand times has been wont to deceive

مخمور سعیدی

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا

آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا

شہریار

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

چراغ حسن حسرت

وعدہ نہیں پیام نہیں گفتگو نہیں

حیرت ہے اے خدا مجھے کیوں انتظار ہے

لالہ مادھو رام جوہر

تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کو

میں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا

انور شعور

میں بھی حیران ہوں اے داغؔ کہ یہ بات ہے کیا

وعدہ وہ کرتے ہیں آتا ہے تبسم مجھ کو

داغؔ دہلوی

ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا

جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا

جوشؔ ملیح آبادی

پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے

جھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والے

آرزو لکھنوی

وہ امید کیا جس کی ہو انتہا

وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا

الطاف حسین حالی

کس منہ سے کہہ رہے ہو ہمیں کچھ غرض نہیں

کس منہ سے تم نے وعدہ کیا تھا نباہ کا

حفیظ جالندھری

آپ تو منہ پھیر کر کہتے ہیں آنے کے لیے

وصل کا وعدہ ذرا آنکھیں ملا کر کیجیے

لالہ مادھو رام جوہر

برسوں ہوئے نہ تم نے کیا بھول کر بھی یاد

وعدے کی طرح ہم بھی فراموش ہو گئے

جلیل مانک پوری

اور کچھ دیر ستارو ٹھہرو

اس کا وعدہ ہے ضرور آئے گا

احسان دانش

جھوٹے وعدے بھی نہیں کرتے آپ

کوئی جینے کا سہارا ہی نہیں

جلیل مانک پوری

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا

تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا

داغؔ دہلوی

آپ نے جھوٹا وعدہ کر کے

آج ہماری عمر بڑھا دی

کیف بھوپالی

وہ پھر وعدہ ملنے کا کرتے ہیں یعنی

ابھی کچھ دنوں ہم کو جینا پڑے گا

آسی غازی پوری

دل کبھی لاکھ خوشامد پہ بھی راضی نہ ہوا

کبھی اک جھوٹے ہی وعدے پہ بہلتے دیکھا

جلیل مانک پوری

جھوٹے وعدوں پر تھی اپنی زندگی

اب تو وہ بھی آسرا جاتا رہا

عزیز لکھنوی

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

جلالؔ مانکپوری

مان لیتا ہوں تیرے وعدے کو

بھول جاتا ہوں میں کہ تو ہے وہی

your promises once again I believe

forgetting it is you who will deceive

جلیل مانک پوری

بھولنے والے کو شاید یاد وعدہ آ گیا

مجھ کو دیکھا مسکرایا خود بہ خود شرما گیا

اثر لکھنوی

ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا

وہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے

اختر شیرانی

وعدہ جھوٹا کر لیا چلئے تسلی ہو گئی

ہے ذرا سی بات خوش کرنا دل ناشاد کا

داغؔ دہلوی

اس کے وعدوں سے اتنا تو ثابت ہوا اس کو تھوڑا سا پاس تعلق تو ہے

یہ الگ بات ہے وہ ہے وعدہ شکن یہ بھی کچھ کم نہیں اس نے وعدے کیے

عامر عثمانی

صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائے

جھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہے

قیصر حیدری دہلوی

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے

ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

بیخود دہلوی

مجھے ہے اعتبار وعدہ لیکن

تمہیں خود اعتبار آئے نہ آئے

اختر شیرانی

بعض وعدے کیے نہیں جاتے

پھر بھی ان کو نبھایا جاتا ہے

انجم خیالی

صاف کہہ دیجئے وعدہ ہی کیا تھا کس نے

عذر کیا چاہیئے جھوٹوں کے مکرنے کے لیے

داغؔ دہلوی

وعدہ وہ کر رہے ہیں ذرا لطف دیکھیے

وعدہ یہ کہہ رہا ہے نہ کرنا وفا مجھے

جلیل مانک پوری

تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے

اونچی دیوار کے لمبے سائے

باقی صدیقی

آپ کی قسموں کا اور مجھ کو یقیں

ایک بھی وعدہ کبھی پورا کیا

شوخ امروہوی

وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں

سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں

مفتی صدرالدین آزردہ

کم سنی میں تو حسیں عہد وفا کرتے ہیں

بھول جاتے ہیں مگر سب جو شباب آتا ہے

انوراز