قاصد پر اشعار
قاصد کلاسیکی شاعری کا
ایک مضبوط کردار ہے اور بہت سے نئے اورانوکھے مضامین اسے مرکز میں رکھ کر باندھے گئے ہیں ۔ وہ عاشق کا پیغام لے کر معشوق کے پاس جاتا ہے ۔ اس طور پر عاشق قاصد کو اپنے آپ سے زیادہ خوش نصیب تصور کرتا ہے کہ اس بہانے اسے محبوب کا دیدار اور اس سے ہم کلامی نصیب ہو جاتی ہے ۔ قاصد کبھی جلوہ یار کی شدت سے بچ نکلتا ہے اور کبھی خط کے جواب میں اس کی لاش آتی ہے ۔ یہ اور اس قسم کے بہت سے دلچسپ مضامین شاعروں نے باندھے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف لیجئے ۔
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب یہاں محبوب کی فطرت اور اندازِ تغافل سے اپنی واقفیت ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قاصد جو جواب لائے گا وہ انکار یا بے رخی پر مبنی ہوگا، اس لیے وہ وقت ضائع کیے بغیر پہلے ہی اس کا توڑ یا اگلی درخواست تیار کر رہے ہیں، جو ان کے عشق میں استقلال کی دلیل ہے۔
-
موضوع : خط
کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں
قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خط و کتابت کا منظر اچانک المیے میں بدل جاتا ہے: عاشق کی گھبراہٹ میں لکھی باتیں بھی نامعلوم رہتی ہیں اور جواب بھی موت کی صورت آتا ہے۔ قاصد کی لاش تقدیر کی سفّاکی اور رابطے کے ٹوٹ جانے کی علامت ہے۔ کیفیت خوف، بےبسی اور دائمی جدائی کی ہے۔
نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں
قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول
کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں
کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا
تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر قاصد سے کہتا ہے کہ اگر لوگ نام و نشان پوچھیں تو ظاہری پتے کے بجائے یہ تعارف دینا کہ میرا ٹھکانہ عاشقوں کے دل ہیں۔ یہاں “رہنا” جسمانی رہائش نہیں، محبوبیت اور یاد میں زندہ رہنے کا استعارہ ہے۔ تخلّص “داغؔ” کے ذریعے وہ اپنی پہچان کو عشق کی دنیا میں دائمی شہرت بنا دیتا ہے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام
اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر
مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا
یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں
آتی ہے بات بات مجھے بار بار یاد
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کی بےقراری نمایاں ہے کہ ہر لمحے یاد کی چبھن تازہ ہو جاتی ہے۔ قاصد امید اور انتظار کے بیچ ایک پل ہے، جس سے خبر ملنے کی آس بھی ہے اور تاخیر کی تڑپ بھی۔ دوڑنا اور بار بار کہنا دل کی اضطرابی کیفیت اور شدید اشتیاق کی علامت ہے۔
قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
-
موضوع : دل
مزا جب تھا کہ میرے منہ سے سنتے داستاں میری
کہاں سے لائے گا قاصد دہن میرا زباں میری
تو دیکھ رہا ہے جو مرا حال ہے قاصد
مجھ کو یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصد
اب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہے
مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے
قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے
وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں
سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں
خط دیکھ کر مرا مرے قاصد سے یوں کہا
کیا گل نہیں ہوا وہ چراغ سحر ہنوز
آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا
دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا
-
موضوعات : انتظاراور 1 مزید
کیا مرے حال پہ سچ مچ انہیں غم تھا قاصد
تو نے دیکھا تھا ستارہ سر مژگاں کوئی
کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد
نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا
آیا نہ پھر کے ایک بھی کوچے سے یار کے
قاصد گیا نسیم گئی نامہ بر گیا
کسی کو بھیج کے خط ہائے یہ کیسا عذاب آیا
کہ ہر اک پوچھتا ہے نامہ بر آیا جواب آیا
پھاڑ کر خط اس نے قاصد سے کہا
کوئی پیغام زبانی اور ہے
زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا
کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے
وہ کب سننے لگے قاصد مگر یوں ہی سنا دینا
ملا کر دوسروں کی داستاں میں داستاں میری
پھرتا ہے میرے دل میں کوئی حرف مدعا
قاصد سے کہہ دو اور نہ جائے ذرا سی دیر
Interpretation:
Rekhta AI
داغؔ دہلوی کے یہاں عاشق کی بے قراری نمایاں ہے کہ دل میں مدعا کا ایک نازک سا حرف گردش میں ہے مگر زبان تک نہیں آ رہا۔ اسی تذبذب اور شدتِ احساس میں وہ قاصد کو روکنا چاہتا ہے تاکہ بات سنبھل کر پیغام بن جائے۔ شعر کا مرکزی تاثر محبت کی بے چینی اور اظہار کی جھجک ہے۔
قیامت ہے یہ کہہ کر اس نے لوٹایا ہے قاصد کو
کہ ان کا تو ہر اک خط آخری پیغام ہوتا ہے
خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے
یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا
-
موضوع : خط
یا اس سے جواب خط لانا یا قاصد اتنا کہہ دینا
بچنے کا نہیں بیمار ترا ارشاد اگر کچھ بھی نہ ہوا
-
موضوع : خط
جب اس نے مرا خط نہ چھوا ہاتھ سے اپنے
قاصد نے بھی چپکا دیا دیوار سے کاغذ
خط کے پرزے آئے ہیں قاصد کا سر تصویر غیر
یہ ہے بھیجا اس ستم گر نے مرے خط کا جواب
خط کا یہ جواب آیا کہ قاصد گیا جی سے
سر ایک طرف لوٹے ہے اور ایک طرف دھڑ
-
موضوع : خط
مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد
نظر آئی جبیں پر بوند بھی کوئی پسینے کی
کہنا قاصد کہ اس کے جینے کا
وعدۂ وصل پر مدار ہے آج
قاصد جو گیا میرا لے نامہ تو ظالم نے
نامے کے کیے پرزے قاصد کو بٹھا رکھا
دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔ
کیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوز
نامہ بر ناامید آتا ہے
ہائے کیا سست پاؤں پڑتے ہیں
منت قاصد کون اٹھائے شکوہ دریاں کون کرے
نامۂ شوق غزل کی صورت چھپنے کو دو اخبار کے بیچ
-
موضوع : شکوہ
خرد کے لاکھ قاصد ہیں تو ہوں گے
جنوں کا نامہ بر کوئی نہیں ہے
جواب نامہ یا دیتا نہیں یا قید کرتا ہے
جو بھیجا ہم نے قاصد پھر نہ پائی کچھ خبر اس کی
قاصد کا رویہ بھی بڑا غور طلب تھا
نے لے کے گیا آخری مکتوب ہمارا
-
موضوع : خط
قاصد یہ زبانی تری باتیں تو سنی ہیں
تب جانوں کہ لا دے مجھے تحریر کسی کی
-
موضوع : خط
عمر بھر جس کے لئے آنکھیں رہی ہیں فرش راہ
وہ اجل کا قاصد فرخندہ گام آ ہی گیا
-
موضوعات : آنکھاور 1 مزید