مشہور اشعار پر اشعار
یہ سارے اشعار آپ سب
نے پڑھے یا سنے ہوں گے ۔ان اشعار نے ایک طرح سے ضرب المثل کی حیثیت پا لی ہے ۔ ان میں سے بہت سے اشعار آپ کو یاد بھی ہوں گے، لیکن اپنے ان پسندیدہ اشعار کو ایک جگہ دیکھنا یقیناً آپ کے لئے خوشی کا باعث ہوگا ۔
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 2 مزید
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔
-
موضوعات : جنتاور 3 مزید
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
-
موضوعات : امیداور 4 مزید
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
-
موضوعات : ترغیبیاور 5 مزید
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
-
موضوعات : روماناور 6 مزید
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 2 مزید
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 3 مزید
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
-
موضوعات : زندگیاور 1 مزید
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
-
موضوعات : عشقاور 4 مزید
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں نرگس کو آنکھ کی علامت بنا کر بے نوری کو روحانی و فکری اندھا پن کہا گیا ہے۔ چمن سے مراد معاشرہ ہے جہاں سچی بصیرت رکھنے والا رہنما بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ شعر کا جذبہ ایک طرف محرومی اور حسرت ہے، دوسری طرف اس نادر بصیرت کے ظہور کی امید بھی۔
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
-
موضوعات : اداسیاور 3 مزید
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹے
تری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہزن سے غرض نہیں
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
-
موضوعات : عشقاور 5 مزید
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں ایک نرم سی دوہری کیفیت ہے: یاد نہ آنا اور بھول جانا ایک بات نہیں۔ کہنے والا اعتراف کرتا ہے کہ مدتوں خیال نہیں آیا، مگر رشتہ دل سے کٹا نہیں۔ غیاب اور بےحسی کے باوجود محبت کی ہلکی سی ڈور باقی رہتی ہے۔
-
موضوعات : لَواور 1 مزید
اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
-
موضوعات : خراجاور 1 مزید
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے — یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔
-
موضوعات : ادااور 1 مزید
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
-
موضوعات : بے خودیاور 7 مزید
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے اس شعر میں محبوب کی بے وقت توبہ پر گہرا طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب نے ظلم چھوڑنے کا فیصلہ تو کیا مگر تب جب عاشق مر چکا تھا، لہٰذا اس 'زود پشیماں' (جلد شرمندہ ہونے والے) کی پشیمانی اب عاشق کے لیے بے معنی ہے۔
-
موضوعات : جفااور 2 مزید
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 2 مزید
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
-
موضوعات : جدائیاور 1 مزید
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
-
موضوعات : آرزواور 5 مزید
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے اس شعر میں انتظار کی تلخی دکھائی ہے کہ محبوب کا تغافل شاید ایک دن ختم ہو جائے، مگر اس کے ختم ہونے تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ “خاک ہو جانا” موت، فنا اور وجود کے مٹ جانے کا استعارہ ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ توجہ ملے بھی تو ایسے وقت جب کچھ بچا ہی نہ ہو—یہی بے بسی اور حسرت شعر کی جان ہے۔
-
موضوع : تغافل
زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
-
موضوع : غم
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں محبوب کی موجودگی کو تنہائی کے لمحے سے باندھا گیا ہے۔ “گویا” بتاتا ہے کہ یہ قرب حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور یاد و خیال کا پیدا کردہ بھی۔ جب دنیا ساتھ نہیں دیتی تو محبوب ہی دل کا سہارا بن جاتا ہے، مگر اسی میں تنہائی کی شدت بھی جھلکتی ہے۔
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا
کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
EXPLANATION #1
اس شعر میں کئی تلازمات ایسے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وسیم بریلوی شعر میں معنی کے ساتھ کیفیت پیدا کرنے کے فن سے واقف ہیں۔ ’جہاں‘ کی مناسبت سے ’وہیں‘، اور ان دونوں کی رعایت سے ’مکاں‘، ’چراغ‘ کی مناسبت سے ’روشنی‘ اور اس سے بڑھ کر کسی، یہ سب ایسے تلازمات ہیں جن سے شعر میں معنی آفرینی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔
شعر کے معنیٔ قریب تو یہ ہوسکتے ہیں کہ چراغ اپنی روشنی سے کسی ایک مکاں کو روشن نہیں کرتا ہے، بلکہ جہاں جلتا ہے وہاں کی فضا کو منور کرتا ہے۔ اس شعر میں ایک لفظ ’مکاں‘مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ مکاں سے یہاں مراد محض کوئی خاص گھر نہیں بلکہ اسپیس ہے۔
اب آئیے شعر کے معنیٔ بعید پر روشنی ڈالتے ہیں۔ دراصل شعر میں ’چراغ‘، ’روشنی‘ اور ’مکاں‘ کو استعاراتی حیثیت حاصل ہے۔ چراغ استعارہ ہے نیک اور بھلے آدمی کا، اس کی مناسبت سے روشنی استعارہ ہےنیکی اور بھلائی کا۔ اس طرح شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ نیک آدمی کسی خاص جگہ نیکی اور بھلائی پھیلانے کے لئے پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کا کوئی خاص مکان نہیں ہوتا اور یہ اسپیس کے تصور سے بہت آگے کے لوگ ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ آدمی بھلا ہو۔ اگر ایسا ہے تو بھلائی ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔
شفق سوپوری
-
موضوعات : ترغیبیاور 1 مزید
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 5 مزید
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
-
موضوعات : عشقاور 5 مزید
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کو ایسی فرصت کی طلب ہے جس میں دنیا کے کام اور وقت کی پابندیاں ختم ہو جائیں۔ “رات دن” سے مسلسل تڑپ اور نہ رکنے والی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔ “تصورِ جاناں” محبوب کی یاد کا ایسا سہارا ہے جس میں بیٹھے رہنا بھی ایک کیفیتِ عبادت بن جاتا ہے۔ مرکزی جذبہ تنہائی میں یادِ محبوب کی مٹھاس اور اس کے لیے وقت مانگنے کی حسرت ہے۔
-
موضوعات : تصوراور 1 مزید
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
-
موضوعات : آدمیاور 3 مزید
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
غالب کے ہاں محبوب کی آمد اتنی غیر متوقع ہے کہ اسے خدا کی قدرت کہا گیا ہے۔ عاشق کی نگاہ کبھی محبوب پر، کبھی اپنے گھر پر ٹھہرتی ہے، جیسے یقین کرنے کے لیے بار بار دیکھ رہا ہو۔ اس میں حیرت، شکر اور خوش نصیبی کا لطیف احساس مرکزی ہے۔
-
موضوعات : استقبالاور 1 مزید
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
-
موضوعات : جدائیاور 4 مزید
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ اس کی کیفیتِ بے خودی محض اتفاق نہیں بلکہ کسی سبب کا نتیجہ ہے۔ “پردہ داری” سے مراد وہ راز، دکھ یا حقیقت ہے جسے زبان پر لانا ممکن نہیں، اس لیے اسے چھپایا جاتا ہے۔ یوں الجھن اور بے خودی خود اس چھپی ہوئی بات کی گواہی بن جاتی ہے۔ یہ شعر باطن کی تڑپ اور پوشیدہ درد کا اظہار ہے۔
-
موضوعات : بے خودیاور 2 مزید
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ تجربے نے اتنی سمجھ دے دی ہے کہ آنے والی چیز کی خبر پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ “قدموں کی آہٹ” زندگی کے مسائل، اس کی سختیاں اور اس کے معمولات کی علامت ہے۔ زندگی کو مخاطب کر کے وہ بتاتا ہے کہ اب وہ اسے پہچاننے میں دھوکا نہیں کھاتا۔ لہجہ تھکا ہوا بھی ہے اور بے حد واقفیت بھرا بھی۔
-
موضوعات : آہٹاور 2 مزید