Sahir Ludhianvi's Photo'

ساحر لدھیانوی

1921 - 1980 | ممبئی, ہندوستان

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

اہم ترین ترقی پسند شاعروں میں شامل ، ممتاز فلم نغمہ نگار

غزل 53

نظم 89

اشعار 69

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

  • شیئر کیجیے

قطعہ 4

 

لطیفے 3

 

گیت 49

ای- کتاب 26

آؤ کہ خوئی خواب بنیں

 

1973

بچے من کےسچے

 

1998

گاتا جائے بنجارا

 

1964

گاتا جائے بنجارا

 

 

کلام ساحر لدھیانوی

 

2000

کلیات ساحر

 

1995

میں ساحر ہوں

 

2015

منتخب نظمیں

 

1988

پرچھائیاں

 

1955

ساحر اور انکی شاعری

 

 

تصویری شاعری 31

جہاں جہاں تری نظروں کی اوس ٹپکی ہے وہاں وہاں سے ابھی تک غبار اٹھتا ہے جہاں جہاں ترے جلووں کے پھول بکھرے تھے وہاں وہاں دل_وحشی پکار اٹھتا ہے

ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی ہوتی ہے دلبروں کی عنایت کبھی کبھی شرما کے منہ نہ پھیر نظر کے سوال پر لاتی ہے ایسے موڑ پہ قسمت کبھی کبھی کھلتے نہیں ہیں روز دریچے بہار کے آتی ہے جان_من یہ قیامت کبھی کبھی تنہا نہ کٹ سکیں_گے جوانی کے راستے پیش آئے_گی کسی کی ضرورت کبھی کبھی پھر کھو نہ جائیں ہم کہیں دنیا کی بھیڑ میں ملتی ہے پاس آنے کی مہلت کبھی کبھی

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم_بد_حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ_پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد_کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

مرے جہاں میں سمن_زار ڈھونڈنے والے یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں دھنک کے رنگ نہیں سرمئی فضاؤں میں افق سے تا_بہ_افق پھانسیوں کے جھولے ہیں پھر ایک منزل_خونبار کی طرف ہیں رواں وہ رہنما جو کئی بار راہ بھولے ہیں بلند دعویٔ_جمہوریت کے پردے میں فروغ_مجلس_و_زنداں ہیں تازیانے ہیں بنام_امن ہیں جنگ_و_جدل کے منصوبے بہ_شور_عدل تفاوت کے کارخانے ہیں دلوں پہ خوف کے پہرے لبوں پہ قفل سکوت سروں پہ گرم سلاخوں کے شامیانے ہیں مگر ہٹے ہیں کہیں جبر اور تشدد مٹے وہ فلسفے کہ جلا دے گئے دماغوں کو کوئی سپاہ_ستم پیشہ چور کر نہ سکی بشر کی جاگی ہوئی روح کے ایاغوں کو قدم قدم پہ لہو نظر دے رہی ہے حیات سپاہیوں سے الجھتے ہوئے چراغوں کو رواں ہے قافلۂ_ارتقائے_انسانی نظام_آتش_و_آہن کا دل ہلائے ہوئے بغاوتوں کے دہل بج رہے ہیں چار طرف نکل رہے ہیں جواں مشعلیں جلائے ہوئے تمام ارض_جہاں کھولتا سمندر ہے تمام کوہ_و_بیاباں ہیں تلملائے ہوئے مری صدا کو دبانا تو خیر ممکن ہے مگر حیات کی للکار کون روکے_گا فصیل_آتش_و_آہن بہت بلند سہی بدلتے وقت کی رفتار کون روکے_گا نئے خیال کی پرواز روکنے والو نئے عوام کی تلوار کون روکے_گا پناہ لیتا ہے جن مجلسوں میں تیرہ نظام وہیں سے صبح کے لشکر نکلنے والے ہیں ابھر رہے ہیں فضاؤں میں احمریں پرچم کنارے مشرق_و_مغرب کے ملنے والے ہیں ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں وہ پھول کھل کے رہیں_گے جو کھلنے والے ہیں

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم_بد_حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ_پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد_کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

ویڈیو 66

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر ویڈیو
آج کی رات مرادوں کی برات آئی ہے

محمد رفیع

اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو

نامعلوم

اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے

محمد رفیع

اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروں

بھارتھی وشواناتھن

اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریں

محمد رفیع

اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو توصیف اختر

اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو ذوالفقار علی بخاری

بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کے

نامعلوم

برباد_محبت کی دعا ساتھ لیے جا

محمد رفیع

بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہے

مکیش

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے

محمد رفیع

پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے

محمد رفیع

تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیں

لتا منگیشکر

تم اپنا رنج_و_غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

رادھکا چوپڑا

تنگ آ چکے ہیں کشمکش_زندگی سے ہم

محمد رفیع

جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئی

محمد رفیع

جرم_الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں

رادھکا چوپڑا

جو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیں

محمد رفیع

جیون کے سفر میں راہی

کشور کمار

چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے

آشا بھوسلے

خوبصورت موڑ

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں مہیندر کپور

خودکشی سے پہلے

اف یہ بے_درد سیاہی یہ ہوا کے جھونکے Urdu Studio

دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

محمد رفیع

دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے

کشور کمار

زندگی_بھر نہیں بھولے_گی وہ برسات کی رات

محمد رفیع

سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا لگتی ہو

محمد رفیع

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں

بھارتی وشوناتھن

سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ_گے

لتا منگیشکر

سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے

نامعلوم

شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سے

محمد رفیع

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم

لتا منگیشکر

متاع_غیر

میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی Urdu Studio

مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں

لتا منگیشکر

مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں

محمد رفیع

ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی

لتا منگیشکر

میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں_گا

انوپ جلوٹا

میں جاگوں ساری رین سجن تم سو جاؤ

لتا منگیشکر

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا

محمد رفیع

نظر سے دل میں سمانے والے مری محبت ترے لیے ہے

آشا بھوسلے

نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیے

محمد رفیع

نہیں کیا تو کر کے دیکھ

مکیش

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

محمد رفیع

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے مکیش

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے سمیر کھیرا

ہوس_نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں

بھارتی وشوناتھن

یہ دنیا دو_رنگی ہے

محمد رفیع

یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا

محمد رفیع

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا محمد رفیع

یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں

محمد رفیع

آڈیو 37

تم اپنا رنج_و_غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤ

اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • تنویر نقوی تنویر نقوی ہم عصر
  • سلام ؔمچھلی شہری سلام ؔمچھلی شہری ہم عصر
  • جگن ناتھ آزاد جگن ناتھ آزاد ہم عصر
  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز ہم عصر
  • مخدومؔ محی الدین مخدومؔ محی الدین ہم عصر
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری ہم عصر
  • عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم ہم عصر
  • خلیل الرحمن اعظمی خلیل الرحمن اعظمی ہم عصر
  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی ہم عصر
  • سجاد ظہیر سجاد ظہیر ہم عصر

شعرا کے مزید "ممبئی"

  • کیفی اعظمی کیفی اعظمی
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری
  • شکیل بدایونی شکیل بدایونی
  • قیصر الجعفری قیصر الجعفری
  • اختر الایمان اختر الایمان
  • جاں نثاراختر جاں نثاراختر
  • علی سردار جعفری علی سردار جعفری
  • میراجی میراجی
  • ندا فاضلی ندا فاضلی
  • حسرتؔ جے پوری حسرتؔ جے پوری