آرزو پر اشعار
آرزو آرزو ہی رہتی
ہے ۔ اسی میں اس کا حسن بھی ہے اور اس کا وجود بھی ۔ ہر انسان آرزوئیں پالتا ہے ،زندگی بھر ان کی دیکھ بھال کرتا ہے اور انہیں آرزوؤں کے ساتھ آنکھیں بند کر لیتا ہے لیکن اس درمیانی عرصے میں وہ جن کیفیات سے گزرتا ہے اور جن کھٹے میٹھے لمحوں کو جیتا ہے وہ لازوال بھی ہیں اور زندگی کا حاصل بھی ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ کو ان لمحوں اور ان کیفیتوں کا احساس بھی ہوگا اور آرزوؤں کی ایک بڑی دنیا کا ادراک بھی ۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 5 مزید
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
-
موضوعات : جستجواور 2 مزید
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد
-
موضوعات : تمنااور 1 مزید
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
-
موضوعات : تمنااور 4 مزید
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے یہاں انسانی کرب کی انتہا بیان کی ہے جہاں زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ موت کا انتظار اور اس کی شدید خواہش ہی ایک عذاب بن گئی ہے، گویا وہ جیتے جی مر رہا ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ موت کے آثار تو نظر آتے ہیں مگر وہ حتمی نجات نہیں ملتی جو سانسوں کا سلسلہ ختم کر دے۔
-
موضوع : موت
یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہم دم
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں
مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
-
موضوع : مایوسی
مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود
ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی
-
موضوع : انتظار
تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
-
موضوعات : اجازتاور 1 مزید
آرزو تیری برقرار رہے
دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا
-
موضوع : دل
سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے
جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے
-
موضوعات : تمنااور 1 مزید
مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھا
مجھے بس وہ اسے سارا زمانہ چاہئے تھا
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو
اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
-
موضوعات : آنسواور 3 مزید
ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریں
دنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیا
خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے
جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے
-
موضوعات : امیداور 3 مزید
بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے
ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے
-
موضوعات : بہانہاور 1 مزید
غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ
یہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے
-
موضوع : دنیا
ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر
آرزو کی آرزو ہونے لگی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں مایوسی کی انتہا بیان ہوئی ہے جہاں امید کے ساتھ ساتھ چاہت کی کیفیت بھی ماند پڑ گئی ہے۔ “آرزو کی آرزو” ایک معنی خیز تضاد ہے: دل کسی مقصد کی نہیں، اپنی کھوئی ہوئی خواہش کی طلب میں ہے۔ جذبوں کی خشکی اور بے بسی اس کا مرکزی درد ہے۔
-
موضوع : مایوسی
یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے
EXPLANATION #1
یہ آتش کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ آرزو کے معنی تمنا، روبرو کے معنی آمنے سامنے، بے تاب کے معنی بے قرار ہے۔ بلبل بے تاب یعنی وہ بلبل جو بے قرار ہو جسے چین نہ ہو۔
اس شعر کا قریب کا مفہوم تو یہ ہے کہ ہمیں یہ تمنا تھی کہ ہم اے محبوب تجھے گل کے سامنے بٹھاتے اور پھر بلبل جو بے چین ہے اس سے بات چیت کرتے۔
لیکن اس میں در اصل شاعر یہ کہتا ہے کہ ہم نے ایک تمنا کی تھی کہ ہم اپنے محبوب کو پھول کے سامنے بٹھاتے اور پھر بلبل جو گل کے عشق میں بے تاب ہے اس سے گفتگو کرتے۔ مطلب یہ کہ ہماری خواہش تھی کہ ہم اپنے گل جیسے چہرے والے محبوب کو گل کے سامنے بٹھاتے اور پھر اس بلبل سے جو گل کے حسن کی وجہ سے اس کا دیوانہ بن گیا ہے اس سے گفتگو کرتے یعنی بحث کرتے اور پوچھتے کہ اے بلبل اب بتا کون خوبصورت ہے، تمہارا گل یا میرا محبوب۔ ظاہر ہے اس بات پر بحث ہوتی اور آخر پر بلبل جو گل کے حسن میں دیوانہ ہوگیا اگر میرے محبوب کے جمال کو دیکھے گا تو گل کی تعریف میں چہچہانا بھول جائے گا۔
شفق سوپوری
تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی
مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی
ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو
میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے
ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو
جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر
-
موضوعات : پروانہاور 2 مزید
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا
-
موضوعات : تمنااور 3 مزید
دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ
آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے
-
موضوعات : تمنااور 2 مزید
تجھ سے سو بار مل چکے لیکن
تجھ سے ملنے کی آرزو ہے وہی
تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
-
موضوع : تمنا
ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے
پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
-
موضوعات : تمنااور 1 مزید
ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں
سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا
Interpretation:
Rekhta AI
داغؔ دہلوی نے دل کو گھر اور آرزو کو مہمان بنا کر دکھایا ہے کہ زندگی کی رونق خواہش سے ہوتی ہے۔ جب آرزو چلی جائے تو اندر کا گھر ویران ہو جاتا ہے۔ شاعر کو ڈر اس بات کا ہے کہ دل بے حس ہو کر چاہت کی طاقت ہی کھو نہ دے۔
-
موضوع : دل
تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے
جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی
بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ
کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے
-
موضوعات : زندگیاور 1 مزید
کیا وہ خواہش کہ جسے دل بھی سمجھتا ہو حقیر
آرزو وہ ہے جو سینہ میں رہے ناز کے ساتھ
بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی
سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں
-
موضوع : خواب
وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا
اسے کیا خبر مرے دل میں بھی کبھی آرزوئے گناہ تھی
-
موضوع : گناہ
کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں
-
موضوع : خواب
بے آرزو بھی خوش ہیں زمانے میں بعض لوگ
یاں آرزو کے ساتھ بھی جینا حرام ہے
تمہاری آرزو میں میں نے اپنی آرزو کی تھی
خود اپنی جستجو کا آپ حاصل ہو گیا ہوں میں
اس لئے آرزو چھپائی ہے
منہ سے نکلی ہوئی پرائی ہے
تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے
جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا
-
موضوعات : بڑھاپااور 3 مزید
خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو
ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا
بعد ترک آرزو بیٹھا ہوں کیسا مطمئن
ہو گئی آساں ہر اک مشکل بہ آسانی مری
کھل گیا ان کی آرزو میں یہ راز
زیست اپنی نہیں پرائی ہے
کبھی موج خواب میں کھو گیا کبھی تھک کے ریت پہ سو گیا
یوں ہی عمر ساری گزار دی فقط آرزوئے وصال میں
-
موضوع : وصال
وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں
-
موضوعات : قسمتاور 1 مزید
یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے
آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری
-
موضوعات : تمنااور 1 مزید
ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی
میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی
-
موضوعات : تمنااور 1 مزید