بہانہ شاعری

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

جگر مراد آبادی

وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب

مجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں آیا

وسیم بریلوی

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے

ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

مجروح سلطانپوری

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے

اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

شہریار

یوں ہی دل نے چاہا تھا رونا رلانا

تری یاد تو بن گئی اک بہانا

ساحر لدھیانوی

جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

امجد اسلام امجد

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی

ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی

بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا

ہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کا

جاوید اختر

کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملا

بشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملا

فانی بدایونی

شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی

زندہ رہنے کے لیے کوئی بہانہ ہی سہی

ثمینہ راجہ

ستایا آج مناسب جگہ پہ بارش نے

اسی بہانے ٹھہر جائیں اس کا گھر ہے یہاں

اقبال اشہر قریشی

سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے

ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے

کیف بھوپالی

کبھی کبھی عرض غم کی خاطر ہم اک بہانا بھی چاہتے ہیں

جب آنسوؤں سے بھری ہوں آنکھیں تو مسکرانا بھی چاہتے ہیں

سلام ؔمچھلی شہری

پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا

ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

عباس تابش

خموشی میری لے میں گنگنانا چاہتی ہے

کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے

عبد الرؤف عروج

اٹھایا اس نے بیڑا قتل کا کچھ دل میں ٹھانا ہے

چبانا پان کا بھی خوں بہانے کا بہانہ ہے

مردان علی خاں رانا

جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو

میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو

خالد ملک ساحل

بہانہ مل نہ جائے بجلیوں کو ٹوٹ پڑنے کا

کلیجہ کانپتا ہے آشیاں کو آشیاں کہتے

اثر لکھنوی

وہ بے خودی تھی محبت کی بے رخی تو نہ تھی

پہ اس کو ترک تعلق کو اک بہانہ ہوا

سلیم احمد

کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا

ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

نریش کمار شاد

تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا

پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی

زیب غوری

اک آدھ بار تو جاں وارنی ہی پڑتی ہے

محبتیں ہوں تو بنتا نہیں بہانہ کوئی

صابر ظفر

کوئی صدا کوئی آوازۂ جرس ہی سہی

کوئی بہانہ کہ ہم جاں نثار کرتے رہیں

کبیر اجمل

قاصد کو اس نے جاتے ہی رخصت کیا تھا لیک

بد ذات ماندگی کے بہانے سے رہ گیا

مصحفی غلام ہمدانی